وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا بانی چیئرمین عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنا ان کا آئینی اور قانونی حق ہے لیکن آج ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ کو اپنے قائد سے ملنے نہیں دیا گیا جو قابل مذمت ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بار بار عمران خان سے ملاقات سے روکا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شاہزیب خانزادہ کو ہراساں کرنیوالے شاہد بھٹی کا نام پی این آئی ایل لسٹ میں شامل
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قید تنہائی پر ہمیں گہری تشویش ہے اور ہم واضح کرتے ہیں کہ بانی چیئرمین عمران خان کو کسی صورت قید تنہائی میں نہیں رہنے دیں گے۔
انھوں نے مسلم لیگ ن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب نواز شریف وزیراعظم تھے تو پوری کابینہ ان سے ملاقات کے لیے لندن جایا کرتی تھی لیکن اب صوبے کے ایک منتخب وزیراعلیٰ کو بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات سے بھی روکا جا رہا ہے۔
احتجاج سے متعلق ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی شفیع جان نے بتایا کہ احتجاج کے حوالے سے پارٹی، عمران خان کے پیغام کی منتظر ہے اور جیسے ہی عمران خان کی جانب سے پیغام موصول ہوا تو خیبرپختونخوا سے لاکھوں لوگ احتجاج میں شرکت کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پوری پارٹی متحد ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ آج وزیراعلٰی سہیل آفریدی بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے باعث اڈیالہ جیل کے داہگل ناکے سے واپس ہوگئےتھے۔
وزیراعلٰی کے ہمراہ رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک، صوبائی وزیر مینا خان، نعیم پنجوتھ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نےداہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پرسوں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر سیاسی عورتیں اپنے بھائی سے ملنے آتی ہیں لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، جبکہ بانی پی ٹی آئی سے کسی بھی سیاسی رہنما، وکیل یا خاندان کے فرد کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جو شدید تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی کی بہنوں کو سڑک پر گرایا گیا اور ذلیل کیا گیا۔
سہیل آفریدی نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک عورت ہونے کے ناطے دوسری عورت کی عزت کرنی چاہیے اور اگر غیر سیاسی عورتوں کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے تو سیاسی لیڈروں کے ساتھ کیا ہو گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے چیف جسٹس کو خطوط لکھے اور کالز کیں لیکن جواب نہیں آیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان پر ایف آئی آر درج کی گئی، ایف آئی اے میں مقدمہ بنایا گیا اور ان کا پاسپورٹ بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا، لیکن وہ ملک سے باہر جانے کے بجائے پاکستان میں رہیں گے اور مر کر بھی یہاں دفن ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ان کا ملک ہے اور جو بھی اس سے علیحدگی کا سوچے وہ غدار ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 26 نومبر کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا جائے گا کیونکہ اس دن میرے لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ پُرامن اور آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں گے اور انہوں نے دھاندلی کے معاملے پر بھی واضح موقف اختیار کیا کہ مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے آرٹیکل 6 کی سزا ہے اور ان کے بیان کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مضبوط ادارے مضبوط ریاست کی علامت ہوتے ہیں اور لاہور میں جو کچھ ہو رہا ہے سب لوگ دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے کل کہاکہ دھاندلی نہیں ہونی چاہیئے، آپ نے عمر ایوب کی اہلیہ کے انتخابی نشان کو ووٹ دینا ہے،ہم پُرامن اور آئین وقانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرتے ہیں ۔





