افغان طالبان و فتنہ الخوارج کے چہرے عالمی سطح پر بے نقاب

یورپی یونین نے افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں اور پاکستان کے سرحدی خدشات کی تصدیق کر دی۔

یورپی یونین نے افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں اور پاکستان کو درپیش سرحد پار سیکیورٹی خطرات سے متعلق اسلام آباد کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے خدشات حقیقی اور جائز سیکیورٹی تشویش پر مبنی ہیں۔

یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلیس نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کا یہ مطالبہ معقول ہے کہ افغان طالبان، کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سرحد پار سے درپیش خطرات حقیقت پر مبنی ہیں اور افغانستان میں موجود عسکریت پسند پاکستان میں حالیہ حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

کے سفیر رائمونڈاس کاروبلیس کا کہنا ہے کہ یورپی یونین ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتی ہے اور علاقائی امن کے لیے تمام ممالک سے مشترکہ اقدامات پر زور دیتی ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے شواہد اور تفصیلی بریفنگ کے ذریعے یہ مؤقف عالمی برادری کے سامنے رکھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سمیت دیگر شدت پسند گروہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔

حکام کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے اس مؤقف کی توثیق پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے۔

یہ بھی پڑھیںں: انسانی حقوق کی پامالی پر آسٹریلیا کا سخت مؤقف، افغان طالبان پر نئی پابندیاں زیرغور

پاکستانی دفترِ خارجہ نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی سیکیورٹی کے لیے مؤثر تعاون وقت کی ضرورت ہے اور عالمی برادری کی حمایت اس ضمن میں پاکستان کے مؤقف کو مزید مضبوط بناتی ہے۔

Scroll to Top