وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے الیکشن کمیشن کے نوٹسز چیلنج کر دیے

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹسز کو چیلنج کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بغیر کسی وجہ اور جواز کے وزیر اعلیٰ کو الیکشن کمیشن نے طلب کیا ہے اور یہ اقدام غیر قانونی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام آئین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو طلب کرنے کا نوٹس غیر قانونی قرار دیا جائے۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی مبینہ دھمکیوں کے معاملے پر تنازعہ پیدا ہو گیا ہے جس کے سلسلے میں وکیل سہیل آفریدی نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہم نے وزیراعلیٰ کو خود پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا جبکہ وکیل وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی اہم میٹنگ میں ہیں اور وہ آج پیش نہیں ہو سکے۔

وکیل سہیل آفریدی نے عدالت میں کہا کہ درخواست کے ساتھ کوئی وکالت نامہ منسلک نہیں کیا گیا اور انہیں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے وکالت نامے پر دستخط کرانے ہیں۔

ممبر خیبرپختونخوا نے جواب میں کہا کہ ایسا ہی نوٹس ڈی آر او نے بھی جاری کیا ہے اور آپ نے از خود نوٹس لیا ڈی آر او نے بھی طلب کر لیا۔

وکیل علی بخاری نے ممبر خیبرپختونخوا کے ریمارکس پر اعتراض کیا جبکہ وکیل سہیل آفریدی نے کہا کہ کیا میں ان کا وکیل نہیں ہوں؟ آپ کے الفاظ پر میرا سخت اعتراض ہے۔

 چیف الیکشن کمشنر نے بھی معاملے پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی تو کچھ ٹھیک نہیں چل رہا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی الیکشن کمیشن طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئے

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے آج خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے پر طلب کیا تھا، تاہم وہ مصروفیات کے باعث پیش نہیں ہو سکے۔

Scroll to Top