عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں آج سونے کی قیمتیں مجموعی طور پر مستحکم رہیں۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 4042 ڈالر پر برقرار رہی، جس کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور یہ 4 لاکھ 26 ہزار 562 روپے پر برقرار رہی۔
اسی طرح مقامی سطح پر فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی مستحکم رہی اور اس میں کوئی ردوبدل نہیں ہوا، قیمت 3 لاکھ 65 ہزار 708 روپے رہی۔
یہ بھی پڑھین : دبئی ایئر شو میں بھارتی تیجس طیارہ تباہ، کمپنی کے شیئرز گر گئے
سونے کی قیمتوں کے برعکس چاندی آج سستی ہوگئی۔ فی تولہ چاندی کی قیمت 107 روپے کم ہو کر 5 ہزار 222 روپے جبکہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 91 روپے کمی کے بعد 4 ہزار 477 روپے کی سطح پر آگئی۔
واضح رہے کہ کاروباری ہفتے کے چوتھے روز ملک میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے مطابق جمعرات کو فی تولہ سونا 5 ہزار روپے کی کمی کے بعد 4 لاکھ 26 ہزار 562 روپے پر پہنچ گیا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 286 روپے کی کمی سے 3 لاکھ 65 ہزار 708 روپے ہوگئی۔
پاکستان میں سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی طلب اور ملکی روپے کی قدر میں کمی ہے۔
عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل خطرات، کساد بازاری اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری میں اضافے کی وجوہات بھی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقع بھی سونے کی قیمتوں پر اثر ڈال رہی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار طلا کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے مورگن اسٹینلی (Morgan Stanley) نے پیش گوئی کی ہے کہ عالمی سطح پر سونے کی قیمت آئندہ سالوں میں نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے لیے طویل مدتی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ملک میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے اور مارکیٹ کے بدلتے حالات کے مطابق حکمت عملی اپنانا چاہیے۔





