این اے-18 ہری پور ضمنی الیکشن: لیگی رہنما کی دھمکی آمیز گفتگو پر الیکشن کمیشن کا نوٹس

شیراز احمد شیرازی

 این اے-18 ہری پور ضمنی انتخابات ، الیکشن کمیشن آف پاکستان نےمسلم لیگ ن کے رہنما مرتضیٰ جاوید عباسی کی دھمکی آمیز گفتگو نوٹس لے لیا ہے۔

ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر ہری پور نے معاملے کی تحقیقات کے لیے مرتضیٰ جاوید عباسی اور مسلم لیگ ن کےامیدوار بابر نواز کو کل طلب کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی جہاز تیجس 100 فیصد تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہی گر کر تباہ ہوا، چشم دید شواہد منظر عام پر

 مرتضیٰ جاوید عباسی نے حالیہ جلسے کے دوران انتخابی عملے کو دھمکیاں دی تھیں جس کے بعد الیکشن کمیشن نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

دوسری جانب پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 22 تا 24 نومبر کے دوران ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران فوج اور سول آرمڈ فورسز کے افسران کو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نااہلی کی درخواست الیکشن کمیشن میں دائر

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تعینات فورسز انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت مکمل اختیارات کی حامل ہوں گی اور رینجرز کو تیسری دفاعی پرت میں خدمات فراہم کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

یہ اقدام انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے موثر انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے الیکشن کمیشن کے نوٹسز چیلنج کر دیے

الیکشن کمیشن کےمطابق فورسز کی تعیناتی مختلف حلقوں میں کی جائے گی جن میں پی پی 115 اور پی پی 116 فیصل آباد، پی پی 269 مظفرگڑھ، این اے 185 ڈیرہ غازی خان، این اے 18 ہری پور، پی پی 73 سرگودھا، این اے 96 اور این اے 104 فیصل آباد شامل ہیں۔

اس کے علاوہ، این اے 143 ساہیوال، پی پی 98 فیصل آباد، پی پی 203 ساہیوال، این اے 129 لاہور اور پی پی 87 میانوالی میں بھی فورسز تعینات ہوں گی۔

Scroll to Top