شیراز احمد شیرازی
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ نومبر میں کچھ ہونا ہے جبکہ دسمبر میں بہت کچھ ہونے والا ہے۔
اسلام آباد میں سینئرصحافیوں اوراینکرپرسنز سے ملاقات میں سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ جمہوری رویے پر یقین رکھتے ہیں اور احتجاج کی سیاست کی طرف نہیں جانا چاہتے۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں نے تمام آئینی راستے اپنائے، میں نے مریم نواز کو بھی خط لکھا، میڈیا بتائے کہ میں بانی سے ملاقات کیلئے اب کیا کروں، میں نے مریم نواز کو خط اس لئے لکھا کہ سب کچھ ریکارڈ پر رہے، مریم نواز کی ذمہ داری ہے کہ وہ میرے خط کا جواب دیں کیونکہ یہ ایک روایت ہے،میں مریم نواز کے خط کے جواب کا انتظار کررہا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں : این اے-18 ہری پور ضمنی الیکشن: لیگی رہنما کی دھمکی آمیز گفتگو پر الیکشن کمیشن کا نوٹس
انہوں نے کہاکہ بانی سے کسی قسم کا رابطہ نہیں، وزیراعظم نے مجھے مبارکباد دی، سوشل میڈیا پر میری بھی ٹرولنگ ہوتی ہے ، سوشل میڈیا ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے، وزیراعظم کی ٹرولنگ نہیں ہونی چاہئے، وزیراعظم کو میں نے خط لکھا، وہ ٹرولنگ پر اس خط کو معذرت سمجھ لیں۔
سہیل آفریدی نے کہاکہ میرے صوبے میں اس وقت سنجیدہ مسائل ہیں، دہشتگردوں کیلئے ہمارے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں ہے، یہ الزام غلط ہے کہ ہماری جماعت نے دہشتگردوں کو خیبرپختونخوا میں بسایا۔
انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم دور میں ٹی ٹی پی کو واپس لا کر بسایا گیا، کرپشن کی کسی کو خبر ملے تو مجھے بتائے، کرپشن میں ملوث افراد کیخلاف نیب ایکشن لے،میں تو سات مرلے کا گھر نہیں بنا سکتا، جس دن میں نے سات مرلے کا گھر بنایا اس دن مجھے پکڑ لیا جائے۔
وزیراعلی نے کہاکہ ڈرون حملوں میں دہشتگرد مارے جاتے ہیں اور اس پر کبھی احتجاج نہیں ہوتا، بے گناہ افراد کے مرنے پر احتجاج کیا جاتا ہے،خیبرپختونخوا میں منشیات کے کاروبار میں اگر سیاسی عناصر شامل ہیں تو ہمیں بتایا جائے، ہم ایکشن لیں گے۔
انہوں نے کہاکہ پنجاب کے لوگوں کے پیغام آرہے ہیں کہ وہ احتجاج میں نکلنے کیلئے تیار ہیں،خیبرپختونخوا میں جو بھی شہید ہوتا ہے اس کی مجھے تکلیف ہوتی ہے، میں مذاکرات کا حامی ہوں لیکن موجودہ حکومت سے بات کا کوئی فائدہ نہیں۔
وزیراعلی نے کہاکہ کورکمانڈر پشاور سے ملاقات میں کافی باتیں ہوئیں، این ایف سی ایوارڈ اجلاس میں جائوں گا، وفاق کے پی کے فنڈز جاری کرے،ہمارے لوگوں نے دہشتگردی کیخلاف پہلے بھی قربانیاں دیں، ہمیں اعتماد میں لیا جائے تو ہم پھر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔





