امریکی صدر نے یوکرین کو امن معاہدہ قبول کرنے کی ڈیڈلائن دی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو جمعرات تک امریکا کے امن معاہدہ قبول کرنے کی آخری تاریخ دے دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے امریکی ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر معاملات درست سمت میں چل رہے ہوں تو ڈیڈلائن میں توسیع ممکن ہے، تاہم موجودہ حالات میں جمعرات مناسب وقت ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا کے امن منصوبے کی منظوری نہ دی گئی تو یوکرائن اپنی آزادی، وقار اور واشنگٹن کی حمایت کھو سکتا ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ یہ منصوبہ روس کے اہم مطالبات کی حمایت کرتا ہے اور یہ ہفتہ سخت فیصلوں کا ہے، اس دوران قوم کو متحد رہنا ہوگا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین کو حفاظتی یقین دہانیاں بھی فراہم کی گئی ہیں، جو نیٹو کے آرٹیکل 5 کے اصولوں کے مطابق ہیں، یعنی کسی رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ سمجھا جائے گا۔

جنگ بندی کے مسودے کے تحت یہ معاہدہ دستخط کے بعد 10 سال تک نافذ العمل رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ اور میئر ظہران ممدانی کی ملاقات، امید ہے نئے میئر شہر میں مثبت تبدیلی لائیں گے

جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نیویارک کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی سے ملاقات کی، جس دوران دونوں رہنماؤں نے مشترکہ اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ظہران ممدانی کے ساتھ ملاقات انتہائی مثبت اور مؤثر رہی۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ممدانی نیویارک کے معاملات بہتر انداز میں چلائیں گے اور امریکی حکومت ان کی ہر ممکن معاونت کرے گی تاکہ شہر کی عوام کی توقعات پر پورا اترا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا ظہران ممدانی کے فیصلے بعض قدامت پسند رہنماؤں کے لیے حیرت کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن ہمیں امید ہے کہ وہ مثبت تبدیلیاں لائیں گے۔

انہوں نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ ملاقات میں یہ نہیں بات ہوئی کہ آیا ممدانی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو گرفتار کریں گے یا نہیں۔

ٹرمپ نے عالمی امن کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ان کی کوششوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوا ہے، اور ان کے ذریعے کیے گئے آٹھ امن معاہدوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے خاتمے کا بھی ذکر شامل ہے۔

Scroll to Top