قائد حزب اختلاف کے تقرر کا معاملہ مزید الجھ گیا، محمود اچکزئی کا نام منظور نہیں ہوا

قائد حزب اختلاف کے تقرر کا معاملہ مزید الجھ گیا، محمود اچکزئی کا نام منظور نہیں ہوا

حکومت نے محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کے لیے ناقابل قبول قرار دے دیا، نشست کئی ماہ سے خالی، پی ٹی آئی سے نیا نام طلب

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے تقرر کا معاملہ مزید الجھ گیا ہے، کیونکہ حکومت نے محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کے لیے ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اپوزیشن لیڈر کی نشست کئی ماہ سے خالی رہ گئی ہے اور قومی اسمبلی میں سیاسی کشمکش شدت اختیار کر گئی ہے۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے اپوزیشن لیڈر کے لیے نیا نام طلب کر لیا ہے، جبکہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے لیے نامزد علامہ راجا ناصر عباس کے نام پر بھی حکومت کو تحفظات ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے محمود اچکزئی کے تقرر سے متعلق پی ٹی آئی کے خط کا زبانی جواب دے دیا ہے اور اب سینیٹ کے لیے بھی نئے نام کی تلاش کی جا رہی ہے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں اپوزیشن لیڈر کے منصب کئی ماہ سے خالی ہیں، جس کی وجہ سے پارلیمانی کارروائیوں میں تاخیر اور سیاسی تنازعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے تقرر میں تاخیر سے پارلیمنٹ کی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑ رہا ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے بھی حکومت کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ پارٹی جلد نئے نام کے لیے حکومتی تجاویز پر غور کرے گی تاکہ قائد حزب اختلاف کا تقرر ممکن بنایا جا سکے۔

Scroll to Top