پشاور:وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہےکہ فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سویلین شہدا میں کبھی تفریق نہیں کی، کرم میں شہید ہونے والے جوانوں کے جنازے میں شرکت کی۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس مکمل طور پر اہل ہے اور دہشت گردوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع سے پولیس کی بھرتی کے معیار نرم کر دیے گئے ہیں اور صوبے میں پولیس اور سپیشل برانچ کے لیے جدید آلات کی خریداری کی منظوری دے دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آئی ایم ایف رپورٹ پر تیمور سلیم جھگڑا کا ردعمل
سہیل آفریدی نے کہا کہ فورینزک لیب قائم کی جائے گی اور اس پر جتنا بھی خرچ ہوگا، کیا جائے گا۔
انہوں نے وفاق سے صوبے کے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پولیس، صحت اور دیگر شعبوں میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے شہدا اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سویلین شہدا میں کبھی تفریق نہیں کی گئی اور انہوں نے کرم میں شہید ہونے والے جوانوں کے جنازے میں بھی شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ ہر مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے اور بعض پالیسیز میں تبدیلی ضروری ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کامیاب ہو۔
وانا حملے اور اسلام آباد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ وانا آپریشن کے دوران آئی جی پولیس کو مکمل اعانت فراہم کرنے کی ہدایت کی، کیڈٹ کالج وانا میں ہمارے ہی بچے تھے۔
انہوں نے کہاکہ صوبے کو اعتماد میں لے کر مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو کوئی قباحت نہیں،میرا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے، افغانستان جائوں تو کہوں گا کہ ہم پختون ہیں مسلمان ہیں اور پڑوسی ہیں، حملے بند کرو،اگر افغان مجھے انکار کریں تو میرے پاس بھی جواز ہو گا،پی ٹی آئی کچھ کر رہی ہے تو ہی خیبرپختونخوا کے عوام نے تیسری بار موقع دیا۔
وزیراعلی نے کہاکہ موجودہ چیف سیکرٹری اور آئی جی بہترین کام کر رہے ہیں، سمجھتا ہوں کہ دہشت گردی کے تناظر میں صوبے کا افسر ہونا چاہیے،چاہتا ہوں کہ موجودہ آئی جی کام جاری رکھیں۔
انہوں نے مذید کہاکہ وفاق کو دعوت دیتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں آڈٹ کرے لیکن ہمارے واجبات بھی دے، میرا بھائی بھی کرپشن میں ملوث ہو تو اسے سزا ملنی چاہیے۔
سہیل آفریدی نے کہاکہ ہم بند کمروں کی پالیسیز کے خلاف ہیں،علاقے کے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے، وزیراعلی خیبرپختونخوا دہشت گردی نے خیبرپختونخوا کے ہر شعبے کو متاثر کیا، دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پالیسی بنائی جائے۔
انہوں نے کہاکہ جو بھی ہمارے جوانوں کو شہید کرتا ہے وہ دہشت گرد ہے، پالیسیز پر تنقید کرنا میرا جمہوری حق ہے، آپ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جائیں عوام سے رائے لیں، بارڈر پر متعین افسروں کے اثاثے بھی سامنے آنے چاہئیں، میں کسی سے نہیں ڈرتا، اپنی بات پر قائم رہتا ہوں غلط بات پر معذرت بھی کرتا ہوں۔
وزیراعلی نے کہاکہ صوبے کی تاریخ میں امن کی خاطر ہم نے سب کو ایک چھت کے نیچے جمع کیا، امن کی خاطر وفاق کا ساتھ دوں گا، ایک جامع امن پلان بننا چاہیے، نظر ثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان ضروری ہے۔
سہیل آفریدی نے کہاکہ تعلیم، صحت اور امن و امان میری ترجیح ہے،امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر پالیسی بنائیں گے تو نتائج سامنے آئیں گے۔
انہوں نے کہاکہ سی ٹی ڈی نے بہت قربانیاں دیں، ہمارے پاس اب بھی وسائل کی کمی ہے، ترقیاتی فنڈز پر کٹ لگا کر پولیس اور سی ٹی ڈی کو فنڈ دئیے جا رہے ہیں، بلٹ پروف گاڑیوں کے حصول میں بہت وقت لگ رہا ہے، 2019 میں ایڈ ٹو سول کا معاملہ لائے جو ہمارے گلے پڑا۔
سہیل آفریدی نے کہاکہ دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن کولیٹرل ڈیمج نہیں چاہتے، عوام نے پاکستان اور قوم کے لئے قربانیاں دیں لیکن ان سے وعدے پورے نہیں کئے گئے،عوام کے ساتھ اعتماد کا فقدان ہے، جن کا گھر تباہ ہوا ان سے 4 لاکھ کا وعدہ کیا گیا وہ بھی نہیں ملے،آپریشنز میں قربانیاں دینے والوں کا اعتماد بحال ہونا لازم ہے، عوام کا اعتماد بحال ہو گا تو ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتیں گے، تیراہ میں مقامی لوگوں کے تعاون سے فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ جیتی۔





