لیڈر سے ملاقات کے لیے احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ اپنے قائد سے ملاقات کے لیے ان کے پاس احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا کیونکہ وہ تمام جمہوری طریقے آزما چکے ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور کروائی گئی، چیف جسٹس کو خط لکھا گیا اور ہائیکورٹ میں پٹیشن بھی دائر کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی چیئرمین نے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، لیکن اس کے پاس اختیارات موجود نہیں، جب بااختیار لوگ سامنے آئیں گے تب ہی حقیقی بات چیت ہوسکتی ہے۔

الیکشن کمیشن کے نوٹس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں نوٹس موصول ہونے کا پتہ تاخیر سے چلا اور صرف یہ کہنے پر کہ دھاندلی نہیں ہونی چاہیے، انہیں نوٹس بھیج دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کبھی ایف آئی اے اور کبھی الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس بھیج دیے جاتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں وہ سیاسی چوٹ پہنچانا چاہتے ہیں وہیں ان کے مخالفین کو تکلیف ہو رہی ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ لوگ نہ آئین مانتے ہیں نہ قانون، اور چاہتے ہیں کہ ہمیں دیوار سے لگا دیا جائے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ حکومت کے ہر وار کا توڑ ان کے پاس موجود ہے اور وہ جو اقدام کرنے جا رہے ہیں، اس کا جواب حکومت کے پاس نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا پیکج لایا جا رہا ہے، جی ٹی روڈ اور لنک روڈ پر انڈر پاسز کا افتتاح کیا جا رہا ہے جبکہ نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ پالیسی بھی جلد متعارف کرائی جائے گی۔

سہیل آفریدی کے مطابق صوبائی حکومت بلین ٹری سونامی، پناہ گاہوں اور ہیلتھ کارڈ پروگرام کو مزید فعال بنا رہی ہے جبکہ بلین ٹری پلس منصوبے کا بھی افتتاح کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پشاور کے لیے پانچ ہزار کمروں پر مشتمل ایک نئے ہسپتال کی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: محکمہ کھیل میں مبینہ بدعنوانی،مشیرکھیل کا نوٹس، وزیراعلیٰ نے انکوائری کا حکم دیدیا

اس کے علاوہ ڈی آئی خان اور سوات موٹر وے پر کام جاری ہے، کوہاٹ میں ایک ہزار بستروں کا بڑا ہسپتال تعمیر کیا جائے گا اور صوبے میں سولہ ہزار اساتذہ کی بھرتی میرٹ پر کی جائے گی۔

Scroll to Top