جو لوگ ہری پور میں نہیں جیت سکے، وہ لاہور میں کیسے جیتیں گے؟ طلال چوہدری

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ہری پور ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بظاہر حصہ نہیں لیا، تاہم چھپ کر بھرپور مقابلہ کیا گیا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ ہری پور میں جیتنے میں ناکام رہے، وہ لاہور میں کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ پورا لاہور ان کا ہے تو پھر ووٹرز ان کے لیے کیوں نہیں نکلے؟

طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کی ناکامی پر نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پارٹی کی حکومت 13 سال سے قائم ہے، اس کے باوجود وہ ہری پور میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنی حکومت ہونے کے باوجود دھاندلی کے الزامات لگانا درست نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پارٹی انتخابی میدان میں اپنے مؤثر ووٹ بینک کے باوجود کامیاب نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں سب سے بڑی غلطی بائیکاٹ کرنے کی ہوتی ہے، اور جو پارٹی اس وقت عملی طور پر حصہ نہیں لیتی، وہ عوامی رائے میں اپنی جگہ کھو دیتی ہے۔

طلال چوہدری نے مزید کہا کہ چیزیں ریورس ہو رہی ہیں، ہم پیپلز پارٹی کو کیوں مائنس کریں؟ ہمیں ایسی مستحکم حکومت چاہیے جو سب کے ساتھ چل سکے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مشاورت جاری رہے گی اور کوئی ایجنڈا نہیں کہ کسی کو نکالا جائے، بلکہ سب کے تعاون سے شفاف اور مضبوط حکومت چلائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : دھاندلی کے الزامات لگانے سے پہلے عملی حصہ لیں، بائیکاٹ سب سے بڑی غلطی ہے، عطا تارڑ

جبکہ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ دھاندلی کے الزامات لگانے والے افراد کو پہلے میدان میں عملی حصہ لینا چاہیے، کسی عمل میں شریک نہ ہو کر دھاندلی کا الزام لگانا غلط ہے، اور سیاست میں سب سے بڑی غلطی انتخابات کا بائیکاٹ کرنا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور معرکہ حق میں ڈیجیٹل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ دشمن کو اس کی اپنی زبان میں جواب دینا ضروری ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کی اتحادی ہے اور ہر موقع پر بھرپور ساتھ دیا، جبکہ جماعت اسلامی نے پُرامن احتجاج اور بڑے جلسے کیے جن میں ایک بھی نقصان نہیں ہوا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف مذموم مہم پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ سیاست میں بات چیت اور مکالمے سے ہی مسائل کا حل ممکن ہے۔

Scroll to Top