کابل ،دہلی تجارتی تعلقات میں نئی پیش رفت، افغانستان کی بھارتی سرمایہ کاروں کو سونے کی کان کنی سمیت مختلف شعبوں میں 5 سالہ ٹیکس چھوٹ کی پیشکش
خطے میں بدلتی سیاسی و معاشی صورتحال کے تناظر میں افغانستان نے بھارت کے ساتھ تجارتی روابط مضبوط کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں افغانستان نے بھارتی سرمایہ کاروں کو مختلف شعبوں خصوصاً سونے کی کان کنی اور نئے صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے بدلے 5 سال کی ٹیکس چھوٹ کی بڑی پیشکش کر دی ہے۔
افغانستان کے قائم مقام وزیر تجارت الحاج نورالدین عزیزی اس وقت بھارت کے 6 روزہ دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے ایسوسی ایٹڈ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری آف انڈیا (ASSOCHAM) کے زیر انتظام سیشن میں بھارتی حکام اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کیں۔
ملاقات کے دوران افغان وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے باعث تجارت میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، اس لیے افغانستان خطے میں متبادل تجارتی راستے اور شراکت داری تلاش کر رہا ہے۔ انہوں نے بھارتی کمپنیوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں اور مقابلہ نسبتاً کم ہے، جس کے باعث بھارتی سرمایہ کاروں کو بہتر منافع اور سہولتیں مل سکتی ہیں۔
افغان وزیر نے واضح کیا کہ:
نئے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو 5 سال تک ٹیکس چھوٹ ملے گی۔
مشینری درآمد کرنے والی بھارتی کمپنیوں پر صرف 1 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔
سونے کی کان کنی کے منصوبوں کے لیے بھارت کی تکنیکی ٹیموں کی مدد درکار ہے، جنہیں افغانستان ابتدائی تحقیق کے لیے مدعو کرے گا۔
شرط یہ ہوگی کہ خام مال کی پروسیسنگ افغانستان کے اندر ہی کی جائے تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
نورالدین عزیزی نے دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تجارتی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معمولی رکاوٹیں جیسے ویزہ پالیسی، ایئر کارگو سہولت اور بینکنگ ٹرانزیکشنز—دور کی جائیں تو تجارت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیشکش خطے میں بدلتے تجارتی رجحانات اور افغانستان کی نئی معاشی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ بھارت کو ایک بڑے سرمایہ کار اور اسٹریٹجک تجارتی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔





