پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کو انسداد دہشت گردی عدالت میں دو مقدمات میں اشتہاری قرار دے دیا گیا
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنمائوں کے خلاف 28 فروری جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیسز کی سماعت کے دوران عدالت نے سابق وفاقی وزیر شبلی فراز کو دو مقدمات میں اشتہاری قرار دے دیا۔ عدالت نے یہ فیصلہ شبلی فراز کی مسلسل غیر حاضری کے باعث کیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیسز کی سماعت کی، جس میں پیش ہونے والے دیگر ملزمان میں سابق وزیر قانون راجہ بشارت اور دیگر شامل تھے۔ پی ٹی آئی رہنمائوں اور کارکنان کی جانب سے سردار محمد مصروف خان اور زاہد بشیر ڈار ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے پیش ہونے والے ملزمان کی حاضری کے بعد سماعت ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنماوں کے خلاف تھانہ رمنا میں دو مقدمات درج ہیں، جو 28 فروری کو جوڈیشل کمپلیکس پر ہونے والے حملے سے متعلق ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شبلی فراز کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ قانونی کارروائی میں تاخیر اور عدم تعاون کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی رہنما کے خلاف مزید قانونی کارروائی متوقع ہے، اور عدالت نے دیگر ملزمان کی حاضری اور سماعت کے لیے تاریخ مقرر کر دی ہے۔





