وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن نوٹس کے خلاف درخواست پر پشاور ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ درخواست کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں الزام لگایا گیا کہ وزیراعلیٰ نے دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے، جبکہ جلسہ حویلیاں این اے 18 کی حدود میں نہیں تھا۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نوٹس میں الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کا ذکر بھی شامل ہے۔ وزیراعلیٰ کے وکیل نے جلسے کی تقریر کی ٹرانسکرپشن پڑھ کر سنائی اور کہا کہ سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ اگر کوئی دھاندلی کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی، نہ کہ کسی کو دھمکایا گیا۔
جسٹس وقار احمد نے استفسار کیا کہ ابھی تک الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی، لہٰذا وزیراعلیٰ نوٹس میں شامل ہو جائیں اور تھوڑا انتظار کریں۔ جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ جب الیکشن کمیشن کوئی سخت اقدام کرے تب عدالت سے رجوع کریں، اور خود مسائل پیدا نہ کریں۔
درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف دو الگ کارروائیاں چل رہی ہیں، ایک ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفس کی طرف سے اور دوسری الیکشن کمیشن کی جانب سے۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پہلے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کارروائی مکمل ہونی چاہیے، پھر الیکشن کمیشن کارروائی کرے، کیونکہ نوٹس جاری کرنے میں اختیارات کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کو حاصل ہے اور تمام امیدواروں کے خلاف بلاامتیاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک کوئی ختمی فیصلہ نہیں ہوا اور وزیراعلیٰ کو اداروں پر اعتماد کرنا چاہیے۔
جسٹس سید ارشد علی نے نمائندے سے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے ابھی تک وزیراعلیٰ کو نااہل یا عہدے سے نہیں روکا، جس پر وکیل نے کہا کہ کمیشن کسی بھی وقت فوجداری کارروائی بھی شروع کر سکتا ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ سیاسی اور قانونی دونوں سطحوں پر حساسیت کا حامل ہے، اور فیصلہ آنے کے بعد اس کے اثرات صوبے میں سیاسی منظرنامے پر واضح ہوں گے۔





