جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان پرکوئی حملہ نہیں کیا اور گزشتہ شب سرحد پار کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔
سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ پاکستان جب بھی کسی کارروائی کا ارادہ کرتا ہے اس کا باقاعدہ اعلان کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہماری پالیسی دہشتگردی کیخلاف ہے، ہماری پالیسی افغان عوام کے خلاف نہیں ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سابق جنرل فیض حمید سے متعلق سوال پر کہا کہ ان کا کورٹ مارشل ایک قانونی اور عدالتی عمل ہے، اس پر کسی قسم کی قیاس آرائی نہیں ہونی چاہیے۔ جیسے ہی عملدرآمد ہوگا، میڈیا کو آگاہ کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سرحد پار سے دہشتگردی کی معاونت سب سے بڑا مسئلہ ہے، پاک افغان بارڈر پر اسمگلنگ اور پولیٹیکل کرائم کا گٹھ جوڑ توڑنے کی ضرورت ہے، بیرون ممالک سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ریاست کے خلاف بیانیہ بنا رہے ہیں۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کیخلاف مربوط جنگ لڑنے کیلئے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہو گا، دہشتگردوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی تک بات چیت نہیں ہو گی، پاکستان کے عوام اور افواج دہشتگردوں کے خلاف متحد ہیں، دہشتگردوں کا آخری دم تک پیچھا کیا جائے گا، افغان رجیم دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کرے۔
ہماری نظر میں کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں ، دہشتگردوں میں کوئی تفریق نہیں ، 2021 سے 2025 تک ہم نے افغان حکومت کو باربار انگیج کیا، خوارج دہشتگردی کیلئے افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ استعمال کرتے ہیں، طالبان حکومت کب تک عبوری رہےگی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہناتھا کہ 4نومبر کے بعد سے اب تک 206 دہشتگرد مارے گئے، خودکش حملے کرنے والے سب افغان ہیں، خیبرپختونخوا،بلوچستان میں 4910آپریشن کیے گئے۔





