اسلام آباد: پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت پارٹی رہنماؤں کو متعدد بار اجازت ملنے کے باوجود بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
معین ریاض قریشی نے الزام لگایا کہ 8 مرتبہ ملاقات کی اجازت کے باوجود وہ اپنے لیڈر سے نہیں مل سکے، جبکہ دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث افراد کو جیل میں ملاقات کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو کریٹیکل حالات میں رکھا گیا ہے اور جیل میں موجود دیگر قیدیوں کے برعکس ان سے ملاقات روک کر امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو جھوٹے مقدمے میں پھانسی دی گئی، اکبر بگٹی کو قتل کیا گیا، اور یہی وجہ ہے کہ وہ پنجاب سے نفرت کرتے تھے۔
انہوں نے موجودہ حکومت پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 26ویں اور 27ویں ترمیم کے بعد اب 28ویں آئینی ترمیم لانے جا رہی ہے، جسے وہ ملک کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔
معین ریاض قریشی نے کہا کہ موجودہ وزراء عوامی مسائل کے بجائے اپنی 15-15 فرنچائز کے کاروبار میں مصروف ہیں اور عوام کی فلاح و بہبود کے بارے میں کوئی پبلک انٹرسٹ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : 23 نومبر ضمنی انتخابات کے راز، فافن کی رپورٹ سامنے آ گئی
معین ریاض قریشی نے مہنگائی اور بے روزگاری پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 44 فیصد پڑھا لکھا طبقہ ملک چھوڑ چکا ہے اور عوام کا زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے اعلان کیا کہ اگلے منگل کو صبح 11 بجے سے دوپہر 1 بجے تک تمام ایم پی ایز اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کریں گے، جو قیادت کے حکم تک جاری رہے گا۔
اس موقع پر علیمہ خان نے سیکرٹری داخلہ پنجاب کو بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے خط ارسال کیا ہے۔





