سہیل آفریدی کیخلاف مقدمات پر ہائیکورٹ کا بڑا حکم، 9 دسمبر تک کوئی گرفتاری نہیں، تفصیلات طلب

پشاور ہائیکورٹ کا حکم، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو 9 دسمبر تک گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ، مقدمات کی تفصیلات طلب

تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، سہیل آفریدی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیل حاصل کرنے کے لیے دائر درخواست پر مختصر حکم نامہ جاری کیا ہے۔ عدالت نے نو دسمبر تک کسی بھی مقدمے کے تحت وزیر اعلیٰ کی گرفتاری پر پابندی عائد کی ہے اور متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹس طلب کی ہیں۔

حکم نامے کے مطابق، سہیل آفریدی پر اسلام آباد میں سات مقدمات مختلف تھانوں میں درج ہیں جبکہ سائبر کرائم اسلام آباد میں ان کے خلاف دو مقدمات زیر سماعت ہیں۔ اس کے علاوہ، نیب، اینٹی کرپشن اور آئی جی خیبر پختونخوا کی جانب سے مقدمات سے متعلق رپورٹس ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کی گئی ہیں۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ وہ ادارے جو وزیر اعلیٰ کے ماتحت کام کر رہے ہیں، عدالت اس معاملے میں کس بنیاد پر مداخلت کر سکتی ہے۔ تاہم، ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا گیا۔

مزید سماعت نو دسمبر تک ملتوی کی گئی ہے، جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ یقینی بنائیں کہ تمام متعلقہ فریقین کی رپورٹس عدالت میں پیش کی جائیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق، یہ حکم عدالت کی جانب سے تحقیقات کے لیے وقت اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جاری کیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی غیر قانونی گرفتاری سے بچا جا سکے اور مقدمات کی تفصیلات عدالت کے علم میں آئیں۔

یہ بھی پڑھیں : سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ اب کتنے کا ہوگیا؟ جانیے

Scroll to Top