وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو یک طرفہ قرار دیا جا رہا ہے اور اسرائیلی فورسز اس کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ان کارروائیوں میں فلسطینی بچے شہید ہو رہے ہیں، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک کم از کم 352 فلسطینی مارے جا چکے ہیں جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں 70,000 سے زائد افراد اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ شرم الشیخ میں دستخط ہونے والا یہ معاہدہ علاقے میں استحکام لانے کے لیے تھا، تاہم اسرائیل کے اقدامات نے اس بات پر سوالات پیدا کر دیے ہیں کہ آیا وہ اس معاہدے کے پابند ہیں یا نہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا نسل کشی کا عمل ختم نہیں ہوا، اور بین الاقوامی برادری، خاص طور پر مغربی حکومتیں، اسرائیل پر دباؤ ڈالتی رہیں کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ مسلم ممالک جنہوں نے اس معاہدے کی حمایت کی، بشمول ترکی، مصر اور قطر کو موجودہ تشدد کے پیش نظر اپنی پالیسی پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اسرائیل سے فوری انخلا کا مطالبہ کر دیا
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بھی پہلے ہی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کو فلسطینی مسئلے کے حتمی حل کے مترادف نہ سمجھا جائے۔





