کراچی: کراچی کے علاقے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے پاس پیش آنے والا دردناک واقعہ شہریوں کو دہلا گیا، جہاں کھلے مین ہول میں گرنے والا تین سالہ ابراہیم اب تک لاپتا ہے۔ معصوم بچے کے والدین کا واحد سہارا یہی بچہ تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق ابراہیم اپنی والدہ اور والد کے ساتھ شاپنگ کے بعد باہر نکل رہا تھا کہ اچانک ان کا بیٹا ہاتھ چھڑا کر بھاگا اور سڑک کنارے موجود بغیر ڈھکن کے مین ہول میں جا گرا۔
بچے کی ماں مسلسل ریسکیو اہلکاروں سے فریاد کرتی رہی جبکہ والد نبیل نے کہا کہ کسی کو اندازہ نہیں ہم پر کیا گزر رہی ہے، مین ہول کھلا تھا، کوئی حفاظتی نشان بھی موجود نہیں تھا۔
واقعے کے بعد علاقے کے رہائشی اس قدر غصے میں آگئے کہ جب اتھارٹیز کی بھجوائی گئی مشینری واپس جانے لگی تو لوگوں نے احتجاج شروع کردیا۔
مشتعل مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑک ٹریفک کیلئے بند کر دی اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
یہ بھی پڑھیں : ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے حوالے سے سلمان علی آغا نے بڑا اعلان کردیا
دوسری جانب ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ نے میڈیا سے گفتگو میں یقین دہانی کرائی کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی اور بچے کی تلاش کیلئے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کراچی میں کھلے مین ہولز اور نالوں کے باعث اب تک 24 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں 19 مرد اور 5 بچے شامل ہیں، جس نے شہر میں حفاظتی اقدامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔





