کراچی کے علاقے گلشن اقبال، نیپا چورنگی کے قریب ایک 3 سالہ بچہ ابراہیم والد نبیل کھلے مین ہول میں گر گیا، جس کے بعد 14 گھنٹے کی کوششوں کے بعد بچے کی لاش نکالی گئی۔
واقعہ رات تقریباً 11 بجے پیش آیا، جس کے فوری بعد ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچے اور تلاش شروع کی، تاہم ابتدائی کوششیں ناکام رہیں اور ریسکیو آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا۔ حکام کے مطابق رات بھر پانچ مقامات پر کھدائی کی گئی، لیکن متعلقہ محکموں کی تاخیر اور مشینری کی عدم دستیابی کے باعث تلاش مشکل ہوگئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور کراچی میونسپل کارپوریشن کا عملہ دیر سے جائے وقوعہ پر پہنچا۔ ابتدائی مشینری بھی جلدی واپس لے لی گئی، جس کے بعد مقامی شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیوی مشینری منگوائی اور کھدائی کا عمل دوبارہ شروع کیا۔
حادثے کے وقت بچہ والدین کے ہمراہ ڈیپارٹمنٹل سٹور میں شاپنگ کرنے آیا تھا۔ والد کے مطابق وہ موٹر سائیکل پارک کر رہے تھے کہ بچے نے ان کا ہاتھ چھڑا کر دوڑنا شروع کر دیا اور کھلے مین ہول میں گر گیا۔ بچے کے دادا محمود الحسن نے بتایا کہ یہ والدین کا اکلوتا بیٹا ہے اور ریسکیو کی کاوش سے مطمئن نہیں، انہوں نے مزید مشینری اور تلاش میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا۔ بچے کی والدہ واقعہ کے بعد شدید صدمے میں مبتلا ہیں۔
حادثے کے بعد نیپا چورنگی پر شہریوں نے احتجاج کیا، سڑکیں ٹائر جلا کر بند کیں اور پتھراؤ بھی کیا۔ میڈیا ٹیموں پر حملے بھی ہوئے، جس سے نجی چینلز کی گاڑیاں متاثر ہوئیں۔ مشتعل افراد نے انتظامیہ کی عدم موجودگی پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ رات بھر میڈیا موجود رہا مگر ریسکیو ٹیمیں بروقت نہیں پہنچیں۔
سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بتایا کہ مین ہول کا ڈھکن نہ ہونے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور کسی بھی غفلت کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے بھی واقعے کا نوٹس لیا اور تمام ریسکیو اداروں کو الرٹ کر دیا، اور فوری طور پر بچے کی تلاش کی ہدایت کی۔
خیال رہے کہ رواں سال شہر کراچی میں 24 افراد کھلے مین ہول اور نالوں میں گرنے سے جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 19 مرد اور 5 بچے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغان مہاجرین ہر صورت واپس جائینگے، خیبر پختونخوا میں افغان کیمپ





