شاہد جان
خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی نے کہاکہ وزیراعلی نے این ایف سی کے حوالے سے یونیورسٹیز میں سیمینار کا آغاز کیا ہے ،یونیورسٹیوں میں این ایف سی پر سیمینارز کا فیصلہ تاریخی ہے،یہ ایک تاریخی اقدام ہے،وزیراعلی کے اس اقدام کو سراہتا ہوں۔
خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احمد کنڈی نے کہاکہ وفاق کی جانب سے صوبے کے بقایاجات نہیں دیے جارہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں بڑے پیمانے پر افسران کے تقرری و تبادلے
انہوں نے سوال اٹھایا کہاکہ این ایف سی میں حصہ آپ مانگ رہے ہیں مگر پی ایف سی کا کیا ہوگا؟،پروونشل فنانشل کمیشن پر آپ عمل درآمد نہیں کررہے ۔
انہوں نے کہاکہ اس صوبے میں بادشاہت قائم ہے ،تمام علاقوں میں یکساں ترقیاتی کام نہیں ہورہے،آپ لوگ دھرنے جلوس کی سیاست میں مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور ہائیکورٹ نےپی او سی سے متعلق درخواستیں نمٹا دیں
احمد کنڈی نے کہاکہ سیاسی تناؤ کم ہوگا تو 4 کروڑ عوام کو کچھ ملے گا،تجویز ہے این ایف سی اجلاس میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف اکٹھے ہو جائیں،یہ تاریخ میں پہلی بار ہوگا ،وفاقی حکومت کے ساتھ سیاسی تناؤ کم کرے ۔
انہوں نے کہاکہ 5ہزار ارب روپے کا مقدمہ مل کر اسلام آباد کے ایوانوں میں لڑیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوامیں ایڈز کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ
قبل ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کے بعدپیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈراحمد کُنڈی نے مطالبہ کیا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایوان میں این ایف سی ایوارڈ پر تفصیلی بحث کی جانی چاہیے، جس پر انہوں نے اسپیکر سے ایجنڈا معطل کرنے کی درخواست کی۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی نے درخواست منظور کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آج کا ایجنڈا معطل کیا جاتا ہے اور اجلاس کے آخر میں صرف قراردادیں پیش کی جائیں گی۔





