خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس: اے این پی کی اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور

شاہد جان

خیبرپختونخوا اسمبلی نے ایم پی او کی دفعات کے ممکنہ غلط استعمال کے خلاف قرارداد منظور کر لی۔

عوامی نیشنل پارٹی( اے این پی) کے رکن نثار باز نے ایم پی او کی دفعات 3 اور 16 کے ممکنہ غلط استعمال کے خلاف قرارداد پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایم پی او کی دفعات 3 اور 16 کے اختیارات ڈپٹی کمشنرز کو تفویض ہونے کے باعث سیاسی اور سماجی کارکنان کے آئینی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

اس میں مزید ذکر کیا گیا کہ دستور پاکستان کے تحت ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پانچ ہزار ارب کا مقدمہ مل کر اسلام آباد کے ایوانوں میں لڑیں گے،احمد کنڈی

قرارداد میں نشاندہی کی گئی کہ اکثر ریاستی ادارے پولیس فورس کے ذریعے سیاسی کارکنان کے خلاف جعلی ایف آئی آرز کاٹ کر انہیں مقدمات میں پھنسا دیتے ہیں، اور یہ عمل آئین اور قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اس کی تازہ مثال اے این پی کے سیاسی کارکن عبید سالارزئی ہیں، جنہیں اسی طرح کے جعلی مقدمات میں مطلوب قرار دیا گیا۔

قرارداد میں ایوان نے صوبائی حکومت سے سفارش کی کہ سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور سماجی ورکروں کو جعلی ایف آئی آرز اور ایم پی او کی مذکورہ دفعات کے تحت کارروائی سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ اس کے علاوہ، پُر امن سیاسی سرگرمیوں کے خلاف ایم پی او کے استعمال کی روک تھام اور اس کے ممکنہ غلط استعمال کی نگرانی کے لیے مناسب انتظامی ہدایات اور مؤثر مانیٹرنگ نظام وضع کرنے کی ہدایت کی گئی۔

قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت آئی جی پولیس کو واضح ہدایت دے کہ وہ سیاسی کارکنوں پر جعلی ایف آئی آرز کا فوری طور پر سدِّباب کریں۔

قرارداد کو ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

Scroll to Top