ماسکو میں 5 گھنٹے کی رازدارانہ ملاقات، ٹرمپ کے وفد نے پیوٹن سے کیا باتیں کیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاون خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد و مشیر جیرڈ کشنر نے روس کے دارالحکومت ماسکو میں صدر ولادیمیر پیوٹن سے تقریباً 5 گھنٹے طویل ملاقات کی۔

رپورٹس کے مطابق اس ملاقات میں روس یوکرین جنگ بندی اور اس سے متعلق امریکی امن معاہدےپر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ روسی صدارتی دفتر نے ملاقات کو تعمیری اور نتیجہ خیز قرار دیا۔

روسی صدر پیوٹن کا موقف

روسی صدر کے خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف کے مطابق امریکی حکام سے مذاکرات میں کچھ نکات پر اتفاق ہوا جبکہ چند پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا، تاہم مجموعی طور پر بات چیت مفید رہی۔

انہوں نے واضح کیا کہ روس اور امریکا کے درمیان علاقائی معاملات پر کوئی حتمی سمجھوتہ نہیں ہوا اور دونوں صدور کی ملاقات ابھی طے نہیں۔

صدر پیوٹن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کے ساتھ جنگ کرنے کا ان کا ارادہ نہیں، لیکن اگر یورپ روس سے جنگ چاہتا ہے تو روس بھی تیار ہے۔

پیوٹن نے یوکرین امن مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یورپ ممکنہ امن منصوبے کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور عملدرآمد نہیں دیکھنا چاہتا۔

امریکی وفد اور مذاکرات

امریکی وفد کی ماسکو میں روسی صدر سے تقریباً 5 گھنٹے طویل ملاقات میں روس یوکرین جنگ بندی اور امریکی امن منصوبے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں : پاک بھارت سمیت 8 جنگیں رکیں، مجھے نوبل انعام ملنا چاہیے، امریکی صدر

روسی صدر کے مشیر یوری اوشاکوف کے مطابق مذاکرات میں کچھ نکات پر اتفاق ہوا، جبکہ چند پر اتفاق نہیں ہوا، تاہم مجموعی طور پر بات چیت مفید رہی۔

یوکرین کا ردعمل

دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امن منصوبے کے مسودے میں کئی نکات ایسے ہیں جن پر ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

نتائج اور آگے کا راستہ

روس اور امریکا نے مذاکرات میں کچھ پیش رفت کی، لیکن حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔
یورپی رہنما امن منصوبے پر مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں۔
یوکرین میں جنگ بندی اور امن منصوبے پر مزید تعاون اور بات چیت کی ضرورت ہے۔

Scroll to Top