خبردار: فریج میں رکھا ہوا آٹا آپ کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے

اکثر گھروں میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ ایک بار میں زیادہ آٹا گوندھ کر فریج میں رکھ دیا جائے تاکہ اگلے دن صبح وقت بچایا جا سکے، لیکن غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سہولت صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق تازہ گوندھا ہوا آٹا غذائی لحاظ سے بہتر ہوتا ہے اور اس میں کیمیائی عمل تیزی سے جاری رہتا ہے، جبکہ فریج میں رکھا ہوا آٹا خمیر کے عمل کو مکمل طور پر نہیں روک پاتا۔

آٹے میں موجود خمیر مسلسل ہلکی رفتار سے کام کرتا رہتا ہے جس کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور تیزاب بنتے رہتے ہیں، اور آٹے کی خوشبو اور ذائقہ بدل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پرانے آٹے کا ذائقہ کھٹا یا ترش ہو سکتا ہے۔

زیادہ بیکٹیریا اور بدہضمی کا خطرہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آٹا 24 گھنٹے سے زیادہ فریج میں پڑا رہے تو خمیر کی زیادتی سے گلوٹن ٹوٹنے لگتا ہے، جس سے آٹا بھاری اور چپچپا ہو جاتا ہے اور روٹیاں سخت بن جاتی ہیں۔ ایسا آٹا معدے پر بھاری پڑتا ہے اور گیس، تیزابیت اور اپھارہ پیدا کر سکتا ہے۔

غذائی اجزا میں کمی اور شوگر کی سطح میں اضافہ

زیادہ دیر تک فریج میں رکھنے سے آٹے میں وٹامنز اور منرلز کم ہو جاتے ہیں، جس سے روٹی پیٹ تو بھر دیتی ہے مگر غذائیت میں کمی ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے روزانہ کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

علاوہ ازیں خمیری آٹے کا نشاستہ جلد ہضم ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں خون میں شوگر کی سطح تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔

گوندھے ہوئے آٹے کو محفوظ رکھنے کے 5 موثر طریقے

1. آٹے کو فریج میں رکھنے کے لیے ایئر ٹائٹ کنٹینر استعمال کریں۔
2. آٹے کی اوپری سطح پر ہلکی سی تیل کی تہہ لگائیں۔
3. آٹا زیادہ دیر کچن میں نہ رہنے دیں اور گوندھنے کے فوراً بعد فریج میں رکھیں۔
4. فریج میں رکھا ہوا آٹا ایک دن کے اندر استعمال کریں۔
5. زیادہ مدت کے لیے آٹے کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے فریج میں رکھیں۔

غذائی ماہرین کی وارننگ ہے کہ تازہ آٹا ہی صحت بخش اور بہتر ہضم ہوتا ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ آٹا جلد استعمال کیا جائے اور فریج میں رکھنے کی مدت محدود ہو۔

Scroll to Top