پشاور: تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ افغان جنگ کے اثرات کی وجہ سے خیبر پختونخوا کی معیشت شدید نقصان کا شکار ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں سرمایہ کاری کی شرح اور صنعتی ترقی جنگ کی وجہ سے متاثر ہوئی اور کئی صنعتیں بند ہو گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں ہر ادارے کا کردار واضح رہنا چاہیے۔
اپوزیشن رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ وفاقی حکومت کے لوگ وفاق اور صوبوں کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی کمیٹی کے فیصلے کرنے والے افراد کو وفاق اور وفاقی حکومت کے درمیان فرق ہی نہیں معلوم۔
اسی موقع پر محمد زبیر نے کہا کہ گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا تھا کہ پاکستان کے لیے وقت آ گیا ہے کہ ملکی پالیسیاں نظر ثانی کی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم اپوزیشن کی باتیں نہیں سن رہے تو انہیں کم از کم اپنے حلقے اور متعلقہ اداروں کی تجاویز ضرور سننی چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاک افغان تعلقات میں بہتری کی امید دوبارہ ٹوٹ گئی، امن مذاکرات بے نتیجہ رہے
دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے تازہ ترین امن مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق دونوں ممالک کے حکام نے جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ مذاکرات سعودی عرب، قطر اور ترکی کی میزبانی میں ہوئے اور پچھلے سلسلہ وار اجلاسوں کا حصہ تھے۔
ان اجلاسوں کا مقصد اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔
تاہم رائٹرز کے مطابق استنبول میں گزشتہ ماہ ہونے والے فالو اپ اجلاس میں کوئی طویل مدتی معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔
مذاکرات کے دوران پاکستانی حکام نے افغان طالبان سے تحریری یقین دہانی کا مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان مخالف گروہوں کے خلاف کارروائی کریں گے، لیکن طالبان حکام اس پر تیار نہیں ہوئے۔
دونوں فریقین نے تصدیق کی کہ حالیہ مذاکرات سعودی عرب کی پیشکش پر ہوئے اور سیز فائر کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔





