گیارہواں این ایف سی اجلاس آج طلب، وفاق اور صوبوں کی مالی پوزیشن زیرِ غور

اسلام آباد: وفاقی وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا اجلاس آج 4 دسمبرکو منعقد ہوگا اور باضابطہ ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔

اس اہم اجلاس کی صدارت وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کریں گے۔اجلاس میں چاروں صوبائی وزرائے خزانہ کے ساتھ نجی شعبے کے نامزد اراکین بھی شریک ہوں گے۔

اجلاس کا پہلا حصہ وفاق کی مالی صورتحال پر بریفنگ سے شروع ہوگا، جسے وفاقی سیکریٹری خزانہ پیش کریں گے۔ ایجنڈے کے مطابق وفاقی وزارتِ خزانہ اپنی معاشی حیثیت سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔

این ایف سی کے لیے طے کیے گئے نکات میں صوبوں کو اپنی مالی پوزیشن پر الگ الگ 10، 10 منٹ کی بریفنگ دینے کا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد آئندہ اجلاسوں کا شیڈول اور این ایف سی ایوارڈ کی ٹائم لائنز بھی طے کی جائیں گی۔

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اجلاس میں صوبوں کے خیالات کو پورے احترام سے سنا جائے گا اور وفاق بھی اپنی مالی صورتحال کھل کر سامنے رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام فریق پاکستان فرسٹ کے جذبے کے ساتھ گفتگو میں حصہ لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : این ایف سی اجلاس کی تیاری کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس

 یاد رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی زیر صدارت این ایف سی اجلاس کی تیاری کے لیے اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے مالی اور آئینی حقوق پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو این ایف سی سے متعلق جامع بریفنگ دی گئی، جس میں صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے ہر فورم پر بھرپور جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ سابق فاٹا کا انتظامی انضمام مکمل ہو چکا ہے، لیکن مالی انضمام اب تک نہیں ہو سکا۔

سابق فاٹا کے انضمام کے بعد ضم اضلاع کے 1375 ارب روپے این ایف سی کی مد میں بنتے ہیں جو ابھی تک فراہم نہیں کیے گئے۔

سابقہ وعدے کے مطابق سالانہ 100 ارب روپے فراہم کرنے تھے، جو مجموعی طور پر 700 ارب روپے بنتے ہیں، لیکن وفاق نے صرف 168 ارب روپے جاری کیے ہیں، جبکہ 531.9 ارب روپے ابھی بھی وفاق کے ذمے بقایا ہیں۔

Scroll to Top