بے خوابی، ڈپریشن اور بے چینی: سوشل میڈیا کا کمال یا نقصان؟

امریکی محققین نے انکشاف کیا ہے کہ نوجوان اگر صرف ایک ہفتے کے لیے اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو محدود کر دیں تو ذہنی صحت میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا سے دوری نے بے چینی، ڈپریشن اور بے خوابی کی علامات میں واضح کمی پیدا کی۔

تحقیق میں 295 نوجوانوں نے حصہ لیا جنہوں نے اپنی روزانہ کی سرگرمی تقریباً 2 گھنٹے سے کم کرکے صرف 30 منٹ تک محدود کی۔

تجربے میں شامل ہر نوجوان کو 150 ڈالر بھی دیے گئے۔ ایک ہفتہ مکمل ہونے کے بعد سروے میں درج ذیل نتائج سامنے آئے:

بے چینی کی علامات میں 16.1٪ کمی
ڈپریشن میں 24.8٪ کمی
بے خوابی میں 14.5٪ کمی

ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ بہتری اُن نوجوانوں میں دیکھی گئی جن میں پہلے سے ڈپریشن کی علامات زیادہ تھیں، تاہم تنہائی کے احساس میں کوئی نمایاں تبدیلی رپورٹ نہیں ہوئی۔

یہ تحقیق جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، مگر یہ ہر فرد کے لیے یکساں نہیں ہو سکتے۔

کچھ شرکا نے ذہنی صحت میں نمایاں بہتری محسوس کی جبکہ کچھ کے حالات میں معمولی یا کوئی فرق نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں : غزہ میں طویل دکھوں کے بعد خوشی کی لہر، 54 جوڑوں کی اجتماعی شادی

ماہرین نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا کا استعمال کم کرنا ذہنی صحت کی مکمل یا بنیادی حکمتِ عملی نہیں، تاہم یہ ایک سادہ، مفت اور فوری فائدہ دینے والا طریقہ ہو سکتا ہے۔

تحقیق میں چند حدود بھی ہیں کیونکہ یہ ایک رضاکارانہ مطالعہ تھا، جس میں شامل نوجوان پہلے ہی بہتری کی امید رکھتے ہوں گے۔

اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج سوشل میڈیا اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق پر جاری عالمی بحث میں اہم اضافہ ہیں۔

Scroll to Top