پاکستان کا انسانی ہمدردی پر مبنی اہم اقدام! اقوام متحدہ کے امدادی کنٹینرز کی ترسیل کے لیے طورخم اور چمن بارڈر دوبارہ کھول دیے گئے
تفصیلات کے مطابق پاکستان نے انسانی بنیادوں پر اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے بھیجے جانے والے امدادی کنٹینرز کی ترسیل کو آسان بنانے کے لیے طورخم اور چمن تجارتی بارڈر دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی وزارت تجارت نے وزارت خارجہ سے مشاورت کے بعد کیا ہے تاکہ افغانستان میں غذائی اشیاء اور ادویات کی شدید قلت کے دوران افغان عوام کی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
وفاقی وزارت تجارت نے اس سلسلے میں ممبر کسٹمز (آپریشنز) ایف بی آر اسلام آباد اور ڈائریکٹر جنرل ٹرانزٹ ٹریڈ کراچی ایف بی آر کو خطوط ارسال کیے ہیں، جن میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے بھیجے جانے والے کارگو کی آمد و رفت میں سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
خط کے مطابق وزارت خارجہ کی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یونیسیف، ورلڈ فوڈ پروگرام اور یونائیٹڈ نیشن پاپولیشن فنڈ کے کنٹینرز کی کلیئرنس مرحلہ وار کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں افغانستان کو خوراک فراہم کرنے والے کنٹینرز، دوسرے مرحلے میں ادویات اور طبی آلات لے جانے والے کنٹینرز اور تیسرے مرحلے میں دیگر ضروری اشیاء جیسے طلبہ اور اساتذہ کے لیے کِٹس وغیرہ کے کنٹینرز کو کلیئر کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ان کنٹینرز کی کلیئرنس اور آگے ترسیل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ یہ کنٹینرز چمن اور طورخم کے راستے افغانستان تک پہنچ سکیں۔
واضح رہے کہ افغانستان کے ساتھ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر 12 اکتوبر 2025 سے تمام تجارتی گزرگاہیں ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند تھیں، جس کی وجہ سے افغانستان میں انسانی بنیادوں پر اشیاء کی قلت پیدا ہو گئی تھی۔ پاکستان کا یہ اقدام انسانی ہمدردی کی اعلیٰ مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور افغان عوام کی امداد میں سہولت فراہم کرے گا۔





