این ایف سی اجلاس میں خیبر پختونخواہ کے اہم مطالبات سامنے آگئے، صوبائی شیئر میں اضافہ اور سابق فاٹا کی شمولیت پر زور
تفصیلات کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا افتتاحی اجلاس آج اسلام آباد میں جاری ہے، جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کر رہے ہیں۔ اجلاس میں گیارہویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق اور صوبوں میں وسائل کی تقسیم کے طریقہ کار پر تفصیلی مشاورت جاری ہے۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے نمائندے اور نجی ارکان بھی شریک ہیں۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل خان اور وزیر خزانہ پنجاب مجتبی شجاع الرحمن کے علاوہ بلوچستان کے نمائندے بھی شریک ہیں۔ اس دوران خیبر پختونخواہ حکومت کے اہم مطالبات سامنے آئے ہیں جو صوبے کے وسائل میں منصفانہ حصے اور سابق فاٹا کی شمولیت سے متعلق ہیں۔
خیبر پختونخواہ حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مختص حصہ 1 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کیا جائے اور صوبے کا مجموعی شیئر 14.62 فیصد کے بجائے 19.62 فیصد ہونا چاہیے۔ علاوہ ازیں، صوبے نے آئین کے آرٹیکل 161 سے متعلق مسائل کے حل، پیٹرولیم مصنوعات پر ایکسائز ڈیوٹی کے فارمولے میں ترمیم، اور گیس پر لگنے والی ایکسائز ڈیوٹی میں نظرثانی کی سفارش بھی کی ہے۔
مزید برآں، خیبر پختونخواہ نے ونڈ فال لیوی سے متعلق تنازعات کے حل کی تجویز پیش کی اور این ایف سی اجلاسوں کے لیے ماہانہ شیڈول بنانے کا مطالبہ کیا۔ صوبائی حکومت نے واضح کیا کہ موجودہ این ایف سی آرٹیکل 160 سے مطابقت نہیں رکھتا اور سابق فاٹا کی عدم شمولیت سے یہ اجلاس آئینی طور پر متنازعہ ہے۔ صوبہ سندھ اور خیبر پختونخواہ نے اپنے صوبائی شیئر میں کمی کی بھی سخت مخالفت کی ہے۔
این ایف سی اجلاس میں صوبائی نمائندوں نے وفاق سے منصفانہ تقسیم، آئینی حقوق کی پاسداری اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل کی بروقت فراہمی پر زور دیا ہے، تاکہ صوبوں میں اقتصادی توازن اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ممکن ہو سکے۔
یہ اجلاس ملک میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور وفاق و صوبوں کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





