شاہد جان
پشاور میں امن کیلِے مائیں (Mothers for Peace) کے عنوان سےقدیمز اسکول آف لیڈرشپ اور قدیمز لومیئر اسکول اینڈ کالج پشاور کے زیرِ اہتمام سیمینار منعقد کیا گیا جس میں ماہرینِ تعلیم، ماہرینِ نفسیات اور والدین نے بچوں کی ذہنی، جذباتی اور جسمانی تربیت میں ماؤں کے کلیدی کردار پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر بشریٰ قدیم حیدر نے کہا کہ ادارے نے خیبر پختونخوا سمیت ملک میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کے پیشِ نظر ’’امن تعلیم‘‘ کا آغاز کیا۔ ان کے مطابق قدیمز ملک کا واحد تعلیمی ادارہ ہے جس نے امن تعلیم کو باضابطہ نصاب کا حصہ بنایا ہے۔
ابتدائی بچپن کی تعلیم کی ماہر اقصیٰ امان نے کہا کہ بچوں کی ابتدائی نشوونما، نفسیاتی توازن اور ماں–بچے کے مضبوط تعلقات ایک پُرسکون شخصیت کی بنیاد رکھتے ہیں۔
ماہرِ نفسیات مبارکہ بلال نے بچوں کے لیے محفوظ جذباتی فضا، جذباتی مضبوطی اور گھریلو ماحول میں امن و برداشت کے فروغ پر زور دیا۔غذائیت کی ماہر زہرہ اقبال نے صحت بخش خوراک، جسمانی صحت، نظم و ضبط اور مثبت طرزِ زندگی کو بچوں کی متوازن نشوونما کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
سیمینار میں نوجوانوں میں ڈپریشن، بے چینی اور انتہاپسندانہ رجحانات کی ابتدائی نشاندہی، ڈیجیٹل سیفٹی، والدین اور بچوں کے درمیان مؤثر رابطے اور گھریلو تنازعات کے حل پر بھی گفتگو کی گئی۔
ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باخبر والدین، مؤثر نگرانی، والدین اوراساتذہ تعاون بچوں کی ہمہ جہت نشوونما کے لیے ضروری ہے۔
مقررین نے کہا کہ معاشرے کو چاہیے کہ وہ بچپن سے ہی مثبت سوچ، برداشت، تنوع کے احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے اقدار کو فروغ دے تاکہ بچے بڑے ہو کر پُرامن، ہمدرد اور ذمہ دار شہری بن سکیں





