برطانیہ کی متعدد یونیورسٹیوں نے پاکستان اور بنگلادیش سے آنے والے نئے طلبا کے داخلے عارضی طور پر منجمد کر دیے ہیں۔
یہ فیصلہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ دونوں ممالک سے آنے والے بعض طلبا کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سال 2025 میں گوگل پر پاکستانیوں نے کیا سرچ کیا؟دلچسپ رپورٹ سامنے آگئی
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نو برطانوی تعلیمی اداروں نے “ہائی رسک” قرار دیے گئے ممالک سے بھرتیوں کو روک دیا ہے۔ ان اداروں پر یہ دباؤ تھا کہ وہ صرف ایسے امیدواروں کو قبول کریں جو واقعی تعلیم کے مقصد سے برطانیہ آنا چاہتے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان سے تقریباً 20 فیصد طلبا کی ویزا درخواستیں مسترد ہو رہی تھیں، جبکہ اسائلم کی جانب رجحان بڑھنے کے باعث یونیورسٹیوں نے داخلے کی پالیسیوں پر نظر ثانی کی۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستانی طلبہ کے لیے خوشخبری، سوئٹزرلینڈ نے فنڈڈ اسکالرشپس کا اعلان کر دیا
سرحدی سلامتی کی وزیر ڈیم انجیلا ایگل نے خبردار کیا کہ تعلیمی ویزا کو برطانیہ میں مستقل رہائش کے “پچھلے دروازے” کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
یونیورسٹی آف وولورہیمپٹن نے پاکستان اور بنگلادیش کے انڈر گریجویٹ امیدواروں کی درخواستیں قبول کرنا روک دیا ہے، جبکہ یونیورسٹی آف ایسٹ لندن نے بھی پاکستان سے نئی بھرتیاں معطل کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند پاکستانی طلبہ کے لیے بڑی خوشخبری
سنڈر لینڈ، کوونٹری اور چند دیگر یونیورسٹیاں بھی اسی نوعیت کی پالیسی تبدیلیوں کا اعلان کر چکی ہیں، جن کے تحت دونوں ممالک کے طلبا کے داخلے فی الحال محدود کر دیے گئے ہیں۔
برطانوی بارڈر سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ کچھ طلبا تعلیمی ویزے کی آڑ میں اسائلم یا امیگریشن کے لیے سسٹم کا غلط استعمال کر رہے ہیں، جو قابل قبول نہیں۔





