پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کا سوال مکمل طور پر صوبائی حکومت کے رویے اور اس کے وفاق کے ساتھ تعاون پر منحصر ہے۔
پرمولی فیڈر کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے واضح کیا کہ اگر صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے مسئلے کا مقابلہ کرے تو گورنر راج کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اس وقت دہشت گردی کی سنگین صورتحال سے گزر رہا ہے جہاں افسران، سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اور عام شہری مسلسل حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہڑتالیں، احتجاج اور سڑکیں بند کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں، عدالتی معاملات عدالتوں میں ہی نمٹائے جائیں۔
گورنر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبائی حکومت اگر مسائل کو بات چیت اور افہام و تفہیم سے وفاق کے ساتھ حل کرے تو بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی ریاست ورجینیا میں داعش کی معاونت کے الزام میں افغان شہری گرفتار
انہوں نے یاد دلایا کہ آئین کے مطابق گورنر راج لگانے کا اختیار صرف وفاقی حکومت کے پاس ہے۔
اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی افغان مہاجرین کو صوبے سے نکالنا ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ صوبے کی سیکیورٹی صورتحال اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔





