مردان: اگر آپ تاریخی مقامات کے شوقین ہیں اور دو ہزار سال پرانی بدھ مت تہذیب کے آثار دیکھنا چاہتے ہیں تو مردان کے قریب تخت بھائی کا دورہ لازمی ہے۔ یہ کھنڈرات اور آثار قدیمہ ہر آنے والے کو اپنے تاریخی سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔
تخت بھائی کے علاوہ آس پاس 13 سے 14 دیگر قدیم مقامات بھی موجود ہیں، جو بدھ مت اور اشوک بادشاہ کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہاں بدھا کے مجسمے، سلیپنگ سٹوپا، قدیم راہبوں کے مسکن اور درسگاہیں دیکھنے کے قابل ہیں۔ یہ مقامات پہلی صدی عیسوی سے چھٹی صدی تک بدھ مت کے اہم مراکز کے طور پر کام کرتے رہے۔
اسلام آباد یا پشاور سے موٹر وے کے ذریعے مردان پہنچنے کے بعد تخت بھائی سوات کی جانب تقریباً 20 سے 25 منٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔
برطانوی دور میں 1836 میں دریافت ہونے والے یہ کھنڈرات 1852 میں کھدائی کے عمل سے گزرے اور 1980 میں یونیسکو نے انہیں عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔
تخت بھائی میں راہبوں کے مسکن، درسگاہیں، اسمبلی ہال، عبادت گاہیں اور سٹوپا شامل ہیں۔ آثار قدیمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں طلبہ اور راہبوں کی رہائش کے لیے الگ عمارتیں تھیں، اور مسافروں و زائرین کے لیے مخصوص جگہیں بھی موجود تھیں جہاں لوگ اپنی مرادیں پوری کرنے کے بعد سٹوپا تعمیر کرتے تھے۔
ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق تخت بھائی دنیا بھر میں موجود بدھ مت کے آثار میں سب سے بہتر حالت میں محفوظ ہے۔ کوریا، جاپان، تھائی لینڈ، سری لنکا اور دیگر ممالک کے بدھ راہب یہاں تعلیم اور عبادت کے لیے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : آن لائن پاسپورٹ کی سہولت: شہری اب گھر بیٹھے درخواست دے سکتے ہیں
یہ کھنڈرات نہ صرف مذہبی بلکہ تعلیمی اور سیکیولر سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تخت بھائی ایک مکمل تعلیمی و مذہبی کمپلیکس تھا۔
آثار قدیمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تخت بھائی میں پانی کی فراہمی کا مؤثر نظام موجود تھا، عمارتیں ہوا دار اور روشن دانوں کے ساتھ بنائی گئی تھیں، اور دیواروں میں طاق موجود تھے جہاں تیل کے دیے رکھے جاتے تھے تاکہ رات میں بھی روشنی ممکن ہو۔
اگر آپ صبح اسلام آباد یا پشاور سے روانہ ہوں تو ڈیڑھ گھنٹے میں تخت بھائی پہنچ سکتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر بدھا کے مجسمے، سلیپنگ سٹوپا اور قدیم راہبوں کی یادگاریں دیکھ کر آپ خود کو اس قدیم تہذیب کے مرکز میں محسوس کریں گے، جو چین، جاپان، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کے بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے ایک مقدس مقام ہے۔





