مشال یوسفزئی پر 43 کروڑ کا الزام، 26 نومبر کی امداد کہاں گئی؟ مروت نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا

اسلام آباد: رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے ایک ٹویٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ تحریک انصاف کی رہنما مشال یوسفزئی پر 43 کروڑ روپے کا مالیاتی الزام محض اس لیے بنایا گیا کہ انہوں نے پارلیمانی اجلاس میں حقائق بے خوفی کے ساتھ بیان کیے۔

شیئر کیے گئے ٹویٹ میں مروت نے کہا کہ مشال یوسفزئی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پارٹی قیادت تک بعض اہم پیغامات جان بوجھ کر نہیں پہنچائے جاتے۔

مروت کے مطابق یہ رقم سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے وکلا اور بار ایسوسی ایشنز کو کارکنوں کی رہائی اور قانونی معاونت کے لیے دی گئی تھی، اور مشال یوسفزئی کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔

مزید کہا گیا کہ اصل مسئلہ مشال کی بے خوفی اور چند ’’قربِ گوش دانشوروں‘‘ کی چالاکیوں کو بے نقاب کرنا تھا، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ مشال یوسفزئی کو سیاسی اور میڈیا کے ذریعے کردار کشی کا نشانہ بنایا جائے۔

شیئر افضل مروت نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ 26 نومبر کے شہداء و زخمیوں کے لیے آنے والی 38 کروڑ کی امداد کو بھی بعض عناصر نے اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، اور یہ عمل پارٹی کی اندرونی شفافیت کے لیے خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دسمبر 2030 تک چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات،نوٹیفکیشن جاری

انہوں نے پارٹی قیادت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اصل نقصان پارٹی کو دشمن نہیں، بلکہ اندرونی عناصر پہنچا رہے ہیں جو ہر صبح نئے جھوٹ گھڑتے اور ہر شام کسی سچے ساتھی کو قربان کر دیتے ہیں۔

مروت نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ پارٹی کے اندر موجود کچھ افراد نہ صرف اعتماد اور تعلقات کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں بلکہ سچائی کو دبانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

Scroll to Top