پی ٹی آئی ارکان نے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا

پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس میں اراکین نے پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران اراکین نے سلمان اکرم راجہ کے خلاف باقاعدہ تحریک پیش کی، اراکین کا مؤقف تھا کہ سلمان اکرم راجہ ایک غیر سیاسی شخصیت ہیں، اس لیے ان کا پارٹی کے اہم ترین تنظیمی عہدے پر فائز ہونا مناسب نہیں۔

اجلاس میں شریک اراکین نے شکایت کی کہ سلمان اکرم راجہ پارٹی چیئرمین عمران خان کے پیغامات درست طریقے سے نہ تو پہنچاتے ہیں اور نہ ہی پارٹی قیادت کے درمیان رابطہ مؤثر انداز میں برقرار رکھتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کئی اراکین نے یہ بھی الزام لگایا کہ سلمان اکرم راجہ نے مختلف رہنماؤں کے ساتھ سخت لہجے اور گالم گلوچ تک کا استعمال کیا ہے۔

اراکین کا کہنا تھا کہ علی ظفر، عالیہ حمزہ، مشال یوسفزئی اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ سلمان اکرم راجہ کے جھگڑے ہو چکے ہیں، جس کے باعث پارٹی کے اندر تناؤ بڑھ رہا ہے۔

بعض اراکین نے شکوہ کیا کہ جب سے سلمان اکرم راجہ پارٹی کی لیگل کمیٹی کے سربراہ بنے ہیں، تب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی متاثر ہوا ہے۔ اجلاس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ انہیں احتجاج کی کال دینے کی ذمہ داری دی گئی تھی لیکن نومبر میں بھی وہ کال نہ دی جا سکی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی بیان بازی کا جواب بیان بازی سے دیا جائے گا، فیصل واوڈا

پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بڑھتی ہوئی گرمی کے ساتھ ایک موقع پر شدید لفظی جھڑپوں میں بدل گیا، اراکین نے ایک دوسرے پر الزامات اور تند و تیز جملوں کی بوچھاڑ کی۔

اختتام پر اراکین کی اکثریت نے مطالبہ کیا کہ سلمان اکرم راجہ کو سیکرٹری جنرل کے عہدے سے فوری طور پر ہٹایا جائے، جبکہ ان کے پاس پارٹی کے قانونی امور کی سربراہی برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ قیادت کرے گی۔

پارٹی قیادت کی جانب سے اس بارے میں تاحال کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا۔

Scroll to Top