خیبرپختونخوا حکومت کا سرکاری بھرتیاں پرائیوٹ ٹیسٹنگ ایجنسی کے زریعے نہ کرنے کا فیصلہ

وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہاہے کہ کوئی بھی سرکاری بھرتی پرائیویٹ ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے نہیں ہوگی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے 41ویں صوبائی کابینہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے مستقبل کی پالیسی گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارے لیڈر عمران خان اور ان کی اہلیہ کو قیدِ تنہائی میں رکھا ہوا ہے جس کی صوبائی حکومت بھرپور مذمت کرتی ہے۔

سہیل آفریدی نے وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس کو غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزراء کا یہ رویہ عوام کو اشتعال دلانے اور جان بوجھ کر حالات خراب کرنے کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایسی پریس کانفرنسز کی بھی صوبائی حکومت مذمت کرتی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان پورے پاکستان کے لیڈر ہیں اور ان کی اہلیہ ایک غیر سیاسی اور باپردہ خاتون ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی گڈ گورننس روڈ میپ دے چکی ہے۔

سہیل آفریدی نے ہدایت کی کہ سرکاری اجلاسوں میں شرکت کے لیے سول افسران جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔ سرکاری اجلاسوں میں آن لائن شرکت کی جائے اس سے سرکاری اخراجات میں کمی ہوگی۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ گڈ گورننس اور شفافیت کے لیے صوبے کے تمام سرکاری، خود مختار اور نیم سرکاری اداروں میں بھرتیاں صرف ایٹا کے ذریعے کی جائیں۔

ان کے مطابق کوئی بھی سرکاری بھرتی پرائیویٹ ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے نہیں ہوگی۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ کل ہونے والے قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں صوبے کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا گیا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے اصولی مؤقف کے ساتھ اجلاس کے تمام شرکاء نے اتفاق کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے مطابق این ایف سی میں ضم اضلاع کا شیئر شامل نہیں، جو 1375 ارب روپے بنتا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ طورخم بارڈر 55 روز سے بند ہے جس کے باعث ڈرائیوروں کے ساتھ مرد، خواتین، بچے اور بزرگ بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے خیبر کی ضلعی انتظامیہ کو کھانے پینے اور تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ سول افسران خصوصاً ضلعی انتظامیہ کو بلٹ پروف گاڑیاں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری میں حائل تمام رکاوٹوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

Scroll to Top