شاہد جان
خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی صدارت میں ہوا، جس میں صوبے کے اہم امور پر غور کیا گیا۔
کابینہ اجلاس میں کئے گئے اہم فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں ضم اضلاع کے طلبہ کے لیے میڈیکل و ڈینٹل کالجز کی مخصو ص نشستوں کی تقسیم کار فارمولے، صوبے کی نئی پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی، ایکشن ان ایڈ آف سول پاورز قانون کے خاتمے سے متعلق کمیٹی رپورٹ، گندم کے ذخیرے اور خریداری سے متعلق امور، 9اور10 مئی کے سیاسی مقدمات کا معاملہ، خیبر پختونخوا شوکر کین اور شوگربیٹ بورڈ کی تشکیل،ترقیاتی سکیموں کی اضافی فنڈنگ اور دیگر فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے۔
معاون خصوصی اطلاعات نے مزید بتایا کہ صوبائی کابینہ نے ضم اضلاع کے طلبہ کے لیے میڈیکل و ڈینٹل کالجز سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں مخصوص نشستوں سے متعلق تقسیم کار فارمولے میں جنوبی وزیر ستان کے دو اضلاع میں تقسیم ہونے کے بعد ان دواضلاع میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کا معاملہ مزید غور خوض اور مشاورت کے لئے کابینہ کمیٹی کے سپرد کیا۔ یہ کمیٹی اپنی سفارشات آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کریگی۔
اسی طرح خیبر پختونخوا پوسٹنگ اور ٹرانسفر پالیسی بھی مزید غور و خوض کے لئے کابینہ کمیٹی کے سپردکی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا حکومت کا سرکاری بھرتیاں پرائیوٹ ٹیسٹنگ ایجنسی کے زریعے نہ کرنے کا فیصلہ
شفیع جان نے بتایا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا شوگر کین اور شوگر بیٹ کنٹرول بورڈ 2025-26 کے لئے ملز کے نمائندوں کے ناموں کی منظوری دی گئی۔ کابینہ کو صوبے میں گندم کے ذخیرے اور بین الصوبائی نقل و حمل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی جس پر کابینہ نے پہلے سے متعین کردہ کمیٹی کو اضافی گندم کی خریداری کے معاملے میں بوقت ضرورت اقدامات اٹھانے کا اختیار دے دیا۔
اجلاس میں کڈنی اور بون میرو ٹرانسپلانٹ کے دو مریضوں کے علاج کے لئے مالی امداد کی منظوری بھی دی۔
اجلاس میں ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ پلان اور ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ انیشی ایٹوز کے تحت فنڈز کی فرہمی کی منظوری دی گئی تاکہ جاری منصوبوں کو جلد از مکمل کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں سی ٹی ڈی کے لئے 150 ملین روپے سپشل گرانٹ کی منظوری دی گئی۔
معاون اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ ایکشن ان ایڈ آف سول پاورز قانون کے خاتمے سے متعلق کمیٹی کی سفارشات کابینہ اجلاس میں پیش کی گئیں جن پر عمل درآمد کی کابینہ نے منظوری دے دی۔
اجلاس میں ریڈیو پاکستان پشاورکے واقعہ کی انکوائری کا معاملہ صوبائی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کے سپرد کرنے کے بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 9 اور 10 مئی کو سیاسی انتقام کے تحت جو مقدمات درج کئے گئے ہیں اور جن کے ثبوت بھی دستیاب نہیں ہیں ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔





