اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بہن کا بھارتی میڈیا کو دیا گیا انٹرویو ان کے سیاسی کیریئر میں ایک آخری کیل ثابت ہوا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان ہمیشہ دیگر سیاستدانوں سے مذاکرات کرنے سے انکار کرتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت پر اصرار کرتے ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان اور فوج کے خلاف بیانات کی کبھی بھی تحریک انصاف نے مذمت نہیں کی، پارٹی کے لوگ شہدا کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوتے، جبکہ طالبان کو بھتہ دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کھلی مخالفت کرتی ہے۔
انہوں نے نواز شریف کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ تین بار اقتدار سے ہٹائے گئے لیکن پاکستان کو چیلنج نہیں کیا، جبکہ پی ٹی آئی کے برعکس ہم اور پیپلز پارٹی نے 9 مئی کے واقعات نہیں کیے۔
ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جو ردعمل دیا گیا وہ فطری ہے کیونکہ چند سالوں سے فوج کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ احمد شریف چوہدری نے کل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی سیاست اب ختم ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : چیف آف ڈیفنس فورسز کے ہیڈکوارٹرز کا آغاز ہو گیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
ان کے مطابق پاکستان کو درپیش بیشتر خطرات کا محور ایک ایسا شخص ہے جو اپنی ذات کا قیدی بن چکا ہے اور ریاست پاکستان سے اپنی خواہشات اور مفادات کو بالاتر سمجھتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ فوج کے پاس اب 9 مئی کا کوئی کیس نہیں، اور تمام معاملات سول عدالتوں میں مکمل ہو چکے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت کرے گی اور فوج کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے انہیں مایوسی ہوئی ہے۔
انہوں نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ ملک دشمن نہیں ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا۔
گوہر نے مزید کہا کہ ملک کا دفاع اہم ہے، لیکن ریاستی ادارے اور سیاسی لوگ ایک دوسرے کو ذہنی مریض یا خطرہ قرار دیں تو یہ افسوسناک ہے۔





