چمن: چمن سے حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی اے پوسٹ میں ٹینک پر حملے کے بعد اسے تباہ کر دیا گیا۔ پاک فوج نے فوری اور بھرپور کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پا لیا۔
اس جوابی کارروائی کے بعد افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں ہلچل مچ گئی، سڑکوں پر افرا تفری پھیل گئی اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے۔
چمن سے حاصل کیے گئے خصوصی مناظر میں دیکھا گیا کہ افواج پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے ڈرون افغانستان کے بارڈر سے ملحقہ علاقوں کے اوپر پرواز کر رہے ہیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس مزید بڑھ گیا۔
افغان طالبان بارڈر چھوڑ کر فرار ہو گئے، جبکہ شہریوں نے اپنی موبائل کیمروں سے خوفناک مناظر کو ریکارڈ کیا، جو منظر عام پر آگئے ہیں۔
پاک فوج کی بروقت کارروائی نے نہ صرف حملے کو ناکام بنایا بلکہ سرحد پر محفوظ حالات کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں : پاک فوج نے چمن بارڈر پر افغان طالبان کی بچھائی گئی بارودی سرنگ کا سراغ لگا لیا
چمن بارڈر سے موصول اطلاعات کے مطابق افغان جانب سے پاکستانی حدود میں خفیہ سرنگ کھود کر بارودی مواد نصب کیا گیا تھا۔ پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس زیرِ زمین ٹنل کا سراغ لگا لیا اور اسے قبضے میں لے لیا۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن بھی شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی مزید خطرے سے بچا جا سکے۔
اسی دوران سرحد پر کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ٹی ٹی اے کی جانب سے پاکستانی حدود پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری، مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغان جانب جانی نقصان ہوا ہے جبکہ متعدد چیک پوسٹس کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
ذرائع کے مطابق بابِ دوستی کے قریب پاکستانی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں، جس میں بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔





