اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سیاسی جماعت کے زمرے میں نہیں آتی اور اس کے اقدامات ملک کے خلاف ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ہر ادارے کو متنازع کرنے کی کوشش کی اور 20 سے 25 سال پہلے بھی بہت سے لوگوں نے انہیں پلانٹڈ شخص قرار دیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر حکومت ضرور غور کرے گی۔طلال چوہدری نے یاد دلایا کہ ایم کیو ایم نے بھی اپنے بانی سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے پی ٹی آئی کو چھوڑ کر باقی تمام جماعتوں پر حملہ کیا، اور کالعدم ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان ممکنہ تعلقات پر حکومت سوچ رہی ہے۔
وزیر مملکت نے واضح کیا کہ حکومت ملک اور اداروں کے مفاد میں پی ٹی آئی کے اقدامات پر سخت نظر رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کے ٹوئٹ سے حالات مزید پیچیدہ، اب مذاکرات ممکن نہیں، رانا ثنا
جبکہ دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے اب کسی بھی مذاکرات کے امکانات موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی و سابق وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ ٹوئٹ کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے لگتا ہے کہ حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں اور پارٹی نے معاملے کو مزید خراب کرنے کی سمت اختیار کی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو ایوان میں مذاکرات کی پیشکش کی تھی، اور یہ پیشکش آج بھی برقرار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نہ تو اس پیشکش کو واپس لے سکتے ہیں اور نہ ہی انہوں نے ایسا کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت ڈائیلاگ سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈلاک سے نہیں، اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش اب بھی دستیاب ہے۔ تاہم حالیہ رویے کے بعد پارٹی کے ساتھ مذاکرات کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔





