راولپنڈی: پاکستان فوج آج اپنے عظیم سپوت میجر شبیر شریف شہید کا 54 واں یوم شہادت منارہی ہے۔
میجر شبیر شریف نے 1971ء کی جنگ میں دشمن کے خلاف ناقابلِ فراموش بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سبونہ بند پر قبضہ کر کے دشمن کے کئی ٹینک تباہ کیے اور درجنوں دشمنوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔
پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف، ایڈمرل نوید اشرف، چیف آف دی نیول اسٹاف، اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف دی ائیر سٹاف نے میجر شبیر شریف کی بے مثال قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بہادری اور حب الوطنی پاک فوج اور قوم کے لیے مشعل راہ ہے۔
میجر شبیر شریف 28 اپریل 1943ء کو گجرات کے قصبے کنجاہ میں پیدا ہوئے اور 1964ء میں صرف 21 برس کی عمر میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ وہ میجر عزیز بھٹی شہید، نشانِ حیدر کے بھانجے اور سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بڑے بھائی تھے۔
انہوں نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں بھی شجاعت کا مظاہرہ کیا اور ستارہ جرات سے نوازے گئے۔ 1971ء کی جنگ میں، 3 دسمبر کو ہیڈ سلیمانکی کے قریب بھارتی علاقے فاضلکا میں، ان کی کمان میں سکس ایف ایف پلٹن نے سبونہ بند پر قبضہ کر کے دشمن کی قوت کو خاک میں ملا دیا۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی ملک مخالف اقدامات میں ملوث، سیاسی جماعت کے زمرے میں نہیں آتی، طلال چوہدری
6 دسمبر 1971ء کو دشمن کے ایک بڑے حملے کے دوران میجر شبیر شریف نے بڑی دلیری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
حکومتِ پاکستان نے ان کی بے مثال بہادری کو سراہتے ہوئے انہیں سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا۔
میجر شبیر شریف شہید کو پوری فوجی اعزاز کے ساتھ میانی صاحب قبرستان لاہور میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی قربانی، غیر معمولی قیادت اور حب الوطنی آج بھی فوج اور قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔





