مسلم ممالک نے رفح کراسنگ کھولنے پر اسرائیل کے منصوبے پر تحفظات ظاہر کیے

قاہرہ: پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں رفح کراسنگ کو یکطرفہ کھولنے کے اسرائیلی بیانات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

اس موقع پر پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام بنیادی طور پر غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کو جمہوریہ مصر منتقل کرنے کی نیت سے کیا جا رہا ہے۔

مشترکہ بیان میں زور دیا گیا کہ صدر ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کے دوران فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی ہر کوشش کی سخت مخالفت کی جائے اور کسی کو اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جائے۔

بیان میں کہا گیا کہ رفح کراسنگ کو دونوں طرف سے کھلا رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ غزہ کے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت ممکن ہو سکے۔

بیان میں خطے میں امن کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا گیا اور غزہ میں مکمل جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں : فیفا 2026 ڈراز: 12 گروپس اور 48 ٹیموں کی دلچسپ تفصیلات سامنے آ گئیں

مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کے فوری آغاز پر اتفاق کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کے غزہ میں ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے حالات کو سازگار بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

بیان میں عالمی اور علاقائی شراکت داروں بشمول امریکا کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

مزید برآں مسلم ممالک نے دو ریاستی حل کے تحت 1967 کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی اور مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کی توثیق بھی کی۔

Scroll to Top