پی ٹی آئی سے مذاکرات کی گنجائش؟ عطا تارڑ نے بڑی شرط رکھ دی

پی ٹی آئی سے مذاکرات کی گنجائش؟ عطا تارڑ نے بڑی شرط رکھ دی

سخت ہدایات جاری! عطا تارڑ کا کہنااڈیالہ میں ملاقاتیں محدود، عمران خان کے بیانیے سے لاتعلق رہنے والوں سے ہی بات ہو سکتی ہے

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت اس شرط پر ممکن ہے کہ وہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے بیانیے کے ساتھ نہ ہوں۔ ان کا یہ بیان سیاسی حلقوں میں کافی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور آئندہ مذاکرات کے امکانات پر اثر ڈال سکتا ہے۔

عطا تارڑ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ اگر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اڈیالہ پہنچیں تو انہیں واپس بھیج دیا جائے گا، جبکہ سہیل آفریدی کو پہلے ہی ناکے پر روکا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اگر آئیں تو ان کی گرفتاری بھی خارج از امکان نہیں ہے۔

ایک انٹرویو میں عطا تارڑ نے مزید کہا کہ ملک کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اس لیے مذاکرات کے لیے یہ شرط لازم ہے کہ پی ٹی آئی والے عمران خان کے بیانیے سے لاتعلق ہوں۔ انہوں نے کہا’’اگر پی ٹی آئی والے کہیں کہ وہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے بیانیے کے ساتھ نہیں ہیں تو ان سے بات ہو سکتی ہے

دو روز قبل عطا تارڑ نے اپنے ایک بیان میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ کسی کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اڈیالہ جیل کے باہر کسی کو بھی مجمع اکٹھا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ملک کی سیاسی صورتحال انتہائی نازک ہے اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے احتجاجی تحریکیں جاری ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات کا موقف یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت مذاکرات کے لیے کھلی نہیں بلکہ سخت شرائط پر عمل درآمد کو ترجیح دے رہی ہے۔

Scroll to Top