قیدی سے ملاقات حال احوال تک محدود ہونی چاہیے، انتشار کی صورت میں سخت فیصلے ہونگے، امیر حیدر ہوتی

قیدی سے ملاقات حال احوال تک محدود ہونی چاہیے، انتشار کی صورت میں سخت فیصلے ہونگے، امیر حیدر ہوتی

امیر حیدر ہوتی نے کہا ہے کہ عوام کو تکلیف دینے والے احتجاج اور انتشار برداشت نہیں، قیدی ملاقاتیں محدود اور شفاف ہونی چاہئیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر قانون کے مطابق عمران خان ہو یا کوئی عام قیدی، ہر ایک کو خاندان سے ملاقات کا حق حاصل ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ قیدی سے ملاقات کا مقصد صرف حال احوال پوچھنا ہوتا ہے، اگر ایسی ملاقاتوں سے انتشار اور تلخی میں اضافہ ہو تو ریاست اور حکومت سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہو جائیں گی۔

ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس سلسلے میں مزید سختیاں بھی آسکتی ہیں، کیونکہ ریاست انتشار کو بڑھنے نہیں دے سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو سمجھنا چاہیے کہ ملاقاتیں قانون کے دائرے میں ہوں، ورنہ ریاستی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔

جلسے میں موجود کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تحریک انصاف اور عمران خان کے حالیہ احتجاجی رویے پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’عمران خان کو پشتونوں نے قید نہیں کیا کہ آپ خیبر پختونخوا میں اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج کر کے عوام کو تکلیف دیں۔ صوابی موٹروے بند کرنے سے فائدہ کس کو ہوا؟ اگر راستے بند کرنے ہیں تو صدر یا وزیراعظم کے گھر کے سامنے بند کریں، یا پورے اڈیالہ جیل کے راستے بند کر دیں۔‘‘

امیر حیدر ہوتی نے مزید کہا کہ حکومت میں رہنے والوں کے لیے احتجاج کی سیاست مناسب نہیں ہوتی۔ ’’حکومت میں ہو تو فریاد نہیں کی جاتی، عوام کی خدمت کی جاتی ہے۔’’ انہوں نے کہا کہ عوامی مشکلات میں اضافہ کرنا اور سڑکیں بند کرنا سیاسی شعور نہیں بلکہ انتشار پھیلانے کے مترادف ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امیر حیدر ہوتی کے یہ بیانات موجودہ سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مختلف حلقوں میں قیدی ملاقاتوں اور سیاسی احتجاج کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

Scroll to Top