ایبٹ آباد میں جنرل بس اڈہ تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، شہر کے نمائندہ جرگہ کی کوششوں کے باوجود معاملہ حل نہ ہونے پر ٹرانسپورٹرز سراپا احتجاج بن گئے۔
احتجاج کے دوران مالکان اور ڈرائیورز نے الزام لگایا کہ اڈہ میں نہ تو ٹکٹ کاٹنے والا موجود ہے نہ سامان باندھنے والا، نہ گاڑی لگوانے والا اور نہ ہی کسی گاڑی کا نمبر دینے والا، جس سے نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے تحصیل میونسپل کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنی انا چھوڑیں اور یونین کو اڈے کے انتظامات کی مکمل اجازت دے۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ کمیٹی فی گاڑی کا ٹیکس مقرر کرے اور اڈہ کے انتظامات ٹرانسپورٹ یونین کے سپرد کرے جبکہ باقی معاملات میں دخل اندازی نہ کرے۔
ٹرانسپورٹرز یونین کا مزید کہنا ہے کہ سڑک حادثات میں زخمیوں کی دیکھ بھال، تھانے اور سپر داری اور لاکھوں روپے کی ضمانت میں تحفظ فراہم کرتی ہے۔
مالکان و ڈرائیورز نے کہا کہ ٹی ایم اے کے ٹیکس کے باوجود یونین پہلے 310 روپے میں خدمات مہیا کرتی تھی اور اسی بجٹ میں اڈہ کی مسجد اور فوت شدہ ہاکر کے خاندان کی کفالت بھی کی جاتی تھی۔
انہوں نے عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ محض تماشا نہ دیکھیں بلکہ ٹرانسپورٹرز کے روزگار کا تحفظ یقینی بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں زہریلا دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف محکمہ ٹرانسپورٹ کا کریک ڈاؤن
ٹرانسپورٹرز نے ڈپٹی کمشنر اور تحصیل میئر پر مشتمل کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مسئلہ حل کریں اور کہا کہ ٹی ایم اے کے کمیشن سے ٹرانسپورٹرز کو کوئی فائدہ نہیں، ٹی ایم اے کو صرف گاڑی کے ٹیکس کا تعین کرنے کی اجازت دی جائے اور اڈے میں ایک نمائندہ مقرر کیا جائے جو شام کو ٹیکس جمع کرے۔





