پشاور: خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے بتایا ہے کہ صوبے میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اس سال نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق رواں سال پولیس پر کل 510 حملے کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 327 حملوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہیں۔
سی ٹی ڈی کے مطابق رواں سال 25 ہائی ویلیو دہشت گرد گرفتار ہوئے جن کے سر پر انعام مقرر تھا۔ ان گرفتاریاں دہشت گرد نیٹ ورک کو نقصان پہنچانے اور صوبے میں امن قائم رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
صوبے میں سی ٹی ڈی کی انٹیلی جنس اور آپریشنل سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ سال 2,703 آپریشنز کیے گئے تھے، جبکہ رواں سال یہ تعداد بڑھ کر 2,791 ہو گئی، یعنی تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح گرفتاریاں بھی گزشتہ سال کے 744 سے بڑھ کر رواں سال 1,244 ہو گئی ہیں، جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں گزشتہ پانچ سالوں کی نسبت 102 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
دہشت گردی کے نوعیت میں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ گزشتہ سال 147 دہشت گرد حملے ہوئے جبکہ اس سال یہ تعداد 137 تک کم ہوئی۔
بم دھماکوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ سال 277 سے کم ہو کر 108 رہ گئی۔ بارودی سرنگوں کی تعداد بھی 420 سے کم ہو کر 43 رہ گئی۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد میں غیر قانونی افغانیوں کے خلاف بڑی کارروائی، ڈی آئی جی نے سخت پیغام جاری کر دیا
سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گردی کے خلاف مقدمات کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 1,058 سے بڑھ کر 1,588 ہو گئی۔
پولیس فورس نے رواں سال دہشت گردی کے 158 حملوں کے جواب میں مجموعی طور پر 320 کارروائیاں کیں۔
سی ٹی ڈی کے افسران کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پولیس اور انسداد دہشت گردی ادارے فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔





