استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی اسکیم میں بڑی تبدیلیاں، جانیں کیا بدلے گا؟

اسلام آباد: وزارتِ تجارت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی اسکیم میں ترمیمات کی سمری تیار کرلی ہے جسے ای سی سی اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

نئی تجاویز کا بنیادی مقصد اوورسیز پاکستانیوں کو سہولت فراہم کرنا اور اسکیموں کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔

اس کے تحت بیگیج، گفٹ اور ٹرانسفر آف ریذیڈنس اسکیموں میں یکسانیت لانے کی سفارشات شامل ہیں، جبکہ کمرشل درآمد میں پری اور پوسٹ شپمنٹ انسپیکشن کو لازمی کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ معیار اور شفافیت برقرار رہے۔

اس سے مقامی آٹو انڈسٹری کی ترقی اور عالمی مسابقت کو فروغ ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں : اسپیکر قومی اسمبلی کی پیشکش پر سب کی نظریں، کیا اپوزیشن رضامند ہو جائے گی؟

مزید برآں وینڈر ڈیولپمنٹ، ٹیرف اسٹرکچر اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سے متعلق سفارشات بھی سمری میں شامل ہیں تاکہ آٹو سیکٹر کو مضبوط بنیاد فراہم کی جاسکے۔

موجودہ قوانین کے تحت کمرشل بنیاد پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے، تاہم تجاویز کے مطابق اس ڈیوٹی کو ہر سال بتدریج کم کیا جائے گا تاکہ منڈی کو مستحکم اور مسابقتی بنایا جا سکے۔

Scroll to Top