اڈیالہ جیل سے متعلق بڑا فیصلہ!آج کوئی ورکر بانی کی بہنوں یا وکلا کے ہمراہ اڈیالہ نہیں جائیگا

اڈیالہ جیل سے متعلق بڑا فیصلہ!آج کوئی ورکر بانی کی بہنوں یا وکلا کے ہمراہ اڈیالہ نہیں جائیگا

سیاسی تناؤ میں اہم پیش رفت، اپوزیشن کا حکومت کو موقع نہ دینے کے لیے اڈیالہ جیل پر حکمت عملی بدلنے کا فیصلہ

تفصیلات کے مطابق اڈیالہ جیل کی صورتِ حال کے حوالے سے اپوزیشن اتحاد نے اہم فیصلہ کرلیا ہے۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں طے کیا گیا کہ آج کوئی بھی ورکر بانی پی ٹی آئی کی بہنوں یا وکلا کے ہمراہ ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل نہیں جائے گا۔ اجلاس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومت کو کسی بھی قسم کے کریک ڈاؤن یا رکاوٹ ڈالنے کا موقع نہیں دیا جائے گا، اس لیے مکمل حکمت عملی کے تحت خاموشی اختیار کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کو جواز فراہم نہ کرنے کے لیے یہ فیصلہ ضروری تھا، تاکہ صورتحال مزید نہ بگڑے اور کسی تنازع یا تصادم کا خدشہ پیدا نہ ہو۔

دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو پارٹی سے الگ کرنے کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نہ صرف پارٹی کے بانی ہیں بلکہ سب سے بڑی عوامی قوت بھی رکھتے ہیں، اس لیے ’’مائنس‘‘ کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی فیملی کو فوری طور پر ملاقات کی اجازت دی جائے، کیونکہ یہ ان کا قانونی اور بنیادی حق ہے۔

اس حوالے سے سینیٹر علی ظفر نے بھی واضح مؤقف اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی اصل شناخت بانی کی قیادت سے جڑی ہے، اور ان کے بغیر پارٹی کا وجود نامکمل ہے۔ ان کے مطابق’’پی ٹی آئی میں مائنس ون کا فارمولا نہ پہلے قابلِ قبول تھا، نہ اب اس کا کوئی امکان ہے۔‘‘

اڈیالہ جیل کے باہر آج معمول سے ہٹ کر پرسکون ماحول متوقع ہے، جبکہ اپوزیشن کی اس حکمت عملی کو سیاسی ماحول میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

Scroll to Top