خیبرپختونخوا میں گڈ گورننس کے فقدان کے معاملے پر ایک اہم درخواست پشاور ہائیکورٹ میں دائر کردی گئی ہے۔ درخواست حماد ایڈووکیٹ کی وساطت سے عدالت میں جمع کرائی گئی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبے میں وسائل کی کمی نہیں ہے، لیکن اچھی حکمرانی کا شدید فقدان موجود ہے، جس کے باعث فنڈز بروقت اور درست استعمال نہیں ہو سکے، اور صوبہ متعدد اہم ترقیاتی منصوبوں سے محروم رہا۔
درخواست گزار کے مطابق صوبے کے عوام بنیادی سہولیات جیسے ٹرانسپورٹ، تعلیم، خوراک، صحت اور رہائش سے محروم ہیں۔ گڈ گورننس کی کمی کی وجہ سے معیشت اور معاشی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، جس سے روزگار کے مواقع محدود اور کاروباری ماحول غیر مستحکم ہو گیا ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے طرز پر گڈ گورننس ماڈل اپنایا جائے، بہترین اصلاحات متعارف کروائی جائیں، عوام کے لیے سہولیات میں بہتری لائی جائے اور کاروبار کے فروغ و بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی جائے۔
مزید براں درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ شفافیت کو یقینی بنایا جائے، گڈ گورننس بہتر بنائی جائے اور کرپشن کی روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ عدالت اس معاملے پر سنجیدہ اقدام کرے تاکہ صوبے میں عوام کی زندگی میں بہتری آئے اور خیبرپختونخوا ترقی کے صحیح راستے پر گامزن ہو۔





