بانی پی ٹی آئی اگر اب بھی سمجھوتہ کریں تو جیل سے نکل سکتے ہیں، اسد قیصر

بانی پی ٹی آئی اگر اب بھی سمجھوتہ کریں تو جیل سے نکل سکتے ہیں، اسد قیصر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اگر اب بھی سمجھوتہ کریں تو جیل سے رہائی ممکن ہے۔ یہ بات انہوں نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی۔

تفصیلات کے مطابق اسد قیصر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی باتیں کی جا رہی ہیں، لیکن جن سیاسی جماعتوں کے ساتھ پہلے یہ کیا گیا، کیا وہ آج ختم ہو گئی ہیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ نواز شریف کے زیرِ قیادت ووٹ کو عزت دو تحریک کے دوران ووٹ کی عزت کیسے دی گئی، جب کچھ سینئر رہنماؤں کو نااہل قرار دیا گیا۔

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کو چیلنج ہے کہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کروائے جائیں، چاہے وہ 10 سیٹیں ہی جیتیں، تو بھی مان جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترامیم اور پیسہ اکاؤنٹنگ ایکٹ (پی ای سی اے) اشرافیہ کے لیے ہیں، جس کے باعث تاجر اور چھوٹے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔

اسد قیصر نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بھارت افغانستان کی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہا ہے، جبکہ ہماری ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو فوراً رہا کیا جائے اور میرٹ پر فیصلہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں روکنا غیر قانونی ہے اور اپوزیشن لیڈر کی تقرری نہ ہونا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ اسمبلی میں قانون سازی بھی آئینی طریقے سے نہیں ہو رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی وجہ سے عدالتوں کو مفلوج کیا گیا اور چیف جسٹس کی تعیناتی بھی وزیراعظم کے ذریعے کی گئی۔

اسد قیصر نے کہا کہ حکومت سے شکایت کرنے والے کہاں جائیں گے؟ ہمیں عدلیہ اور ججز سے امید ہے کہ وہ عوام کو انصاف دلائیں گے۔ انہوں نے بار ایسوسی ایشنز سے بھی اپیل کی کہ وہ عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہوں، کیونکہ اندرونی سیاست کی وجہ سے عدلیہ کمزور ہوئی ہے۔ انہوں نے وفاقی وزراء کے لہجے کو فاشسٹ حکومت کا لہجہ قرار دیا اور کہا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ یہ عوام کا مینڈیٹ نہیں، اور عوام سے جمہوری و آئینی حق چھینا گیا ہے۔

اسد قیصر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، اور ملک میں انصاف کے نظام کی مضبوطی کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔

Scroll to Top